دیا سلیا پیسہ میں سوئیلا چار منافع میں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۳۹
بھاگ کر کہیں پناہ لے سکیں۔
اس علاقے کے لوگ بڑی تعداد میں باہر گئے ہیں اور باہر کی کمائی کے نتیجہ میں کافی خوشحال ہو گئے ہیں۔ ایک صاحب نے بنک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف ضلع اعظم گڑھ میں ہر مہینہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپیہ باہر سے آرہا ہے۔ مگر گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ بہت کم لوگ ہیں جو پیسہ کا صحیح استعمال کر رہے ہوں ۔ اس سلسلہ میں ایک صاحب نے بتایا کہ ان کی گفتگو پولیس کے ایک آدمی سے ہوئی، اس نے فخریہ انداز میں کہا کہ ہم نے فلاں گاؤں سے ایک سال کے اندر پانچ لاکھ روپے وصول کیے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس زیادہ پیسے آگئے ہیں وہ جھگڑے فساد میں مبتلا رہتے ہیں ۔ اس طرح پولیس کو موقع مل جاتا ہے کہ وہاں پہونچے اور لوگوں سے پیسے وصول کرے ۔
یہ ایک مسلم گاؤں کا قصہ ہے ۔ عام طور پر ہمارے لیڈر مسلمانوں پر غیر مسلموں کے معاشی ظلم کی شکایت کرتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اپنی نادانیوں کے نتیجہ میں ہر روز اپنا جو معاشی نقصان کر رہے ہیں وہ دوسروں کے نام نہاد معاشی ظلم سے سیکڑوں گنا زیادہ ہے ۔ ایک صاحب نے الرسالہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا : الرسالہ میں چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑے بڑے سبق نکالے جاتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ آپ کی تعریف ادھوری تعریف ہے۔ الرسالہ کوئی تصنیفی کرشمہ نہیں، وہ ایک تربیتی جدوجہد ہے۔ الرسالہ کا مقصد لوگوں کے اندر یہ ذہن بنا نا ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش کے واقعات سے سبق لیتے ہوئے زندگی گزاریں۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں تزکیہ کہا گیا ہے۔
میں نے کہا کہ غلہ اور سبزی سے انسان کے جسم کو غذا ملتی ہے۔ اگر غلہ اور سبزی اور دوسری کھانے کی چیزیں نہ ہوں تو آدمی کے لیے جسمانی فاقہ کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ اسی طرح گرد و پیش کے واقعات سے نصیحت لینا انسان کی روح کی خوراک ہے ۔ اگر آدمی کے اندر یہ صلاحیت نہ ہو تو وہ روحانی فاقہ میں مبتلا ہو جائے گا۔ اور روحانی فاقہ بلاشبہ جسمانی فاقہ سے بھی زیادہ ہلاکت خیز ہے۔ ایک مجلس میں ایک صاحب نے مختلف مسلم اداروں کے احوال بتائے ۔ انھوں نے بتایا کہ اکثر مسلم اداروں میں باہمی جھگڑے ہورہے ہیں ۔ عہدوں کی لامتناہی جنگ جاری ہے ۔ اس کے نتیجہ میں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues