Al-Risala · July 1987 · page 30

دیا سلیا پیسہ میں سوئیلا چار منافع میں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۳۰

ادارے ایک قسم کے ذاتی اکھاڑے بن کر رہ گئے ہیں اور ان کا اصل مقصد اور ان کی ترقی کا کام پسِ پشت چلا گیا ہے ۔

اس گفتگو کو سن کر ایک صاحب نے یہ کیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر روزہ اور نماز کے بارہ میں تو جواب دہی کا احساس موجود ہے۔ مگر دوسرے معاملات میں ان کے اندر سے جواب دہی کا احساس ختم ہوگیا ہے ۔ اگر چند لوگ اکٹھا ہوں اور نماز کا وقت آجائے تو کوئی آدمی امامت کے لیے آگے نہیں بڑھے گا، ہر آدمی چاہے گا کہ وہ پیچھے رہے اور دوسرا شخص آگے بڑھ کر نماز پڑھائے ۔ مگر یہی لوگ جب نماز سے فارغ ہو کر لوٹتے ہیں تو صدر اور سکریٹری کے عہدے حاصل کرنے کے لیے سب کچھ کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز روزہ کے معاملات میں وہ اپنے آپ کو خدا کے سامنے جواب دہ سمجھتے ہیں ۔ مگر دوسرے معاملات میں ان کا خیال یہ ہے کہ وہ جو چاہیں کریں ، ان کے لیے وہ خدا کے یہاں پکڑے نہیں جائیں گے ۔

میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ جہاں لوگوں کا مفاد نہ ٹکراتا ہو وہاں وہ دیندار ہیں۔ مگر جہاں انھیں دیندار بننے کے لیے مفاد کی قربانی کی قیمت دینی پڑے وہاں انھیں دیندار بننے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اعظم گڑھ میں ایک حکیم صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان کی پریکٹس بہت کامیاب ہے۔ روزانہ دوسوسے زیادہ مریض ان کے یہاں آتے ہیں ۔ ان سے گفتگو کے بعد مجھے ایک خاص سبق ملا۔ انھوں نے کہا کہ دوا کی قیمت بہت کم رکھی۔ بلکہ بہت سے مریضوں کا مفت علاج کرنے لگے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے مریضوں کی تعداد کافی بڑھ گئی ۔ نیز ان کے مریض زیادہ دیر دیر تک ان کے یہاں ٹھہرنے لگے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ان کے طبی تجربہ کا میدان بہت وسیع ہو گیا۔ ان کے الفاظ میں " ان کو راستہ ملنے لگا " انھوں نے بہت سے مایوس مریضوں کا کامیاب علاج کیا ۔ اس طرح ان کی شہرت بڑھنے لگی۔ یہاں تک کہ اب ان کے یہاں روزانہ مریضوں کا میلا لگار ہتا ہے۔

بعض اوقات ایک معمولی تدبیر میں کامیابی کا راز چھپا ہوا ہوتا ہے ۔ مگر اکثر لوگ کامیابی کو کسی بہت غیر معمولی تدبیر کا کرشمہ سمجھتے ہیں ۔ ہندی کا ایک مقولہ بہت با معنی ہے : سادہارن گنوں سے آسا دھارن منش بنتے ہیں ۔

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی، وہ سگریٹ کے عادی تھے۔ ایک روز وہ باتھ روم میں گئے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues

Printed page