دیا سلیا پیسہ میں سوئیلا چار منافع میں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۲۴
پروٹسٹ کو رجسٹر کرنا ہے تو زیادہ بہتر یہ ہے کہ خود لیڈر لوگ آگے بڑھ کر گولیاں کھائیں۔ اگر لیڈر لوگ گولی کھائیں گے اور مارے جائیں گے تو پروٹسٹ زیادہ نمایاں ہوگا اور زیادہ موٹے حرفوں کے ساتھ رجسٹر کیا جائے گا۔ ابھی تک تو وہ صرف بار یک حرفوں میں رجسٹر کیا جا رہا ہے ۔ اس پر وہ ہنس کر کہ خاموش ہوگئے ۔ کیسے عجیب ہوں گے وہ لیڈر جو الفاظ بولنے میں بہادر ہوں اور عمل کرنے میں غیر بہادر۔
یہاں انگریزی اخبار پائیر (The Pioneer) پڑھنے کو ملا۔ وہ یہاں کا علاقائی اخبار ہے جو ۱۲۳ سال سے نکل رہا ہے ۔ پہلے وہ صرف لکھنؤ سے چھپتا تھا۔ اب وہ لکھنؤ اور بنارس دونوں مقام سے چھپتا ہے۔ یہ و اخبار ہے جس کے متعلق اکبر الٰہ آبادی نے طنزیہ انداز میں کہا تھا : بات وہ ہے جو پائیز میں چھپے اس شعر سے اندازہ ہوتا ہے کہ ۱۸۷۲ سے پہلے انگریزی اقتدار کے زمانہ میں مسلمان انگریزی چیزوں کو کتنی حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ غالباً یہی مزاج وہ سب سے بڑا سبب ہے کہ قدیم زمانہ میں مسلمان انگریزی زبان اور انگریزی تہذیب کے بارہ میں حقیقت پسندانہ موقف اختیار نہ کرسکے ۔ وہ انگریزی صحافت اور جدید قوتوں کے حصول کے معاملہ میں دوسری قوموں سے پیچھے ہی ہو گئے ۔ انگریزی تہذیب کو حقیر سمجھنے کا مزاج مسلمانوں میں اتنا بڑھا کہ مفید چیزوں کا بھی مذاق اڑایا جانے لگا۔ مثلاً اکبر الہ آبادی کا ایک شعر ہے :
حرف پڑھنا پڑا ہے ٹائپ کا پانی پینا پڑا ہے پائپ کا یکم مارچ کو جناب علی حماد عباسی (پیدائش ۱۹۳۱) سے ملاقات ہوئی۔ وہ شبلی نیشنل کالج کے پرنسپل ہیں۔ انھوں نے ایک واقعہ بیان کیا جس میں بہت بڑا سبق ہے۔
انھوں نے بتایا کہ شبلی کالج میں طالب علمی کے زمانہ میں ان کے جو ساتھی تھے ، ان میں سے ایک عبد القيوم صاحب تھے ۔ بی اے کرنے کے بعد انھیں ملازمت کی فکر ہوئی اور وہ بمبئی چلے گئے ۔ ایک روز وہ بمبئی کے ایک پارک میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ایک آدمی وہاں ٹہلتے ہوئے آئے اور ان کے قریب بیٹھ گئے ۔ عبد القیوم صاحب اپنی بے روزگاری کی وجہ سے کافی پریشان تھے ۔ نووارد ان کے چہرہ پر پریشانی کے آثار دیکھ کر ان سے ہم کلام ہوا۔ دونوں کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کا
‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues