ہم کو مال کی ضرورت نہیں ، ہم کو جان کی ضرورت ہے
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۲۵
خلاصہ یہ تھا :
What are you worried about? Nothing sir. I want a job, but I can't get it. Why? Because I am a Muslim. What do you mean by it? If you have talent I will give you a job. Come and see me in my office tomorrow. یہ نووارد مہاراشٹر کا چیف الیکشن کمشنر تھا۔ عبد القيوم صاحب اگلے دن بتائے ہوئے پتہ پر پہونچے۔ چیف الیکشن کمشنر نے پوچھا کہ تم ٹائپ کرنا جانتے ہو، انھوں نے کہا کہ ہاں، انھوں نے معمولی ٹسٹ لیا اور اسی وقت ان کو اپنے دفتر میں ٹائپسٹ مقرر کر دیا ۔ اس وقت الیکشن کمیشن کے دفتر میں ، عورتیں ٹائپسٹ تھیں۔ عبد القيوم صاحب ۱۸ ویں شخص تھے جو وہاں ٹائپسٹ مقرر کیے گیے۔ یہ واقعہ ۱۹۵۰ کا ہے۔
ڈاکٹر عبد القيوم صاحب کو مواقع ملے تو انھوں نے مزید تعلیم کی تدبیر شروع کی ۔ وہ پڑھتے رہے اور ترقی کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ امریکہ کی پورٹ لینڈ یونیورسٹی میں پہو نچ گیے ۔ آج کل وہ وہاں کے ایک ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ ہیں ۔
اعظم گڑھ میں مولانا مجیب اللہ ندوی سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ ندوہ کی طالب علمی کے زمانہ میں وہ کئی بار مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے ملے تھے ۔ ایک بار وہ پندرہ دن تک مولانا مرحوم کے ساتھ دہلی میں تھے ۔ ان دنوں مولانا مرحوم کے خطوط کا جواب دینا ان کے ذمہ تھا۔ انھوں نے بتایا کہ اس زمانہ میں جو منی آرڈر آتے تھے ، مولانا مرحوم اکثر منی آرڈر فارم پر یہ لکھوا کر اسے واپس کر دیتے کہ :
ہم کو مال کی ضرورت نہیں ، ہم کو جان کی ضرورت ہے
بظاہر ایک آدمی سوچے گا کہ یہ نادانی ہے ۔ جان تو ملی نہیں ، اور جو چیز مل رہی تھی اس کو واپس کر دیا۔ مگر یہ نادانی نہیں، یہ سب سے اونچی دانش مندی ہے۔ بعد کے واقعات بتاتے ہیں کہ مولانا مرحوم نے مال کو واپس کیا تو ان کو مال اور جان دونوں ملے ۔ اور جو لوگ مال واپس کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے ، وہ مال اور جان دونوں سے محروم رہتے ہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues