Al-Risala · July 1987 · page 44

ہم کو مال کی ضرورت نہیں ، ہم کو جان کی ضرورت ہے

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۴۴

مولانا مجیب اللہ ندوی نے خدمت خلق کی اہمیت بتاتے ہوئے اپنا ایک تجربہ (۱۹۶۶) بیان کیا جو ان کے اپنے الفاظ میں حسب ذیل ہے :

" اعظم گڑھ میں جس کرایہ کے مکان میں میں بال بچوں سمیت رہتا تھا اسی کے سامنے ایک ہریجن لکڑی کی ٹال کرتا تھا اور اس کے گھر کے عورت بچے میرے یہاں آیا جایا کرتے تھے۔ ایک دن چار بجے کے قریب میں دارالمصنفین سے واپس آیا تو دیکھا کہ ہریجن کی بیوی رو رہی ہے ۔ میں نے پوچھا کہ کیا بات ہے، بولی نرائن داس (اس کے لڑکے کا نام) کے باپ کو پولیس والے کوتوالی پکڑ لے گئے ہیں ۔ میں نے کہا گھبراؤ نہیں میں کوتوالی جاتا ہوں۔ عصر کی جماعت کا وقت قریب تھا، میں نے نماز پڑھی اور پھر آکر واقعہ پوچھا تو بتایا کہ ایک اباس کا کنٹرول کی دوکان سے ایک آدمی کے غلہ کی گٹھری لے کر بھاگا۔ پولیس نے اس کا پیچھا کیا وہ لڑکا گٹھری لکڑی کی ٹال پر پھینک کر چمپت ہو گیا۔ جو پولیس والا لڑکے کی تلاش میں نکلا تھا اس نے لڑکے کو تو پایا نہیں مگر گٹھری ٹال پر مل گئی اس لیے ان کو پکڑ لیا اور کوتوالی لے گیا۔ میں نے شیروانی پہنی اور رکشہ کر کے کوتوالی پہونچا۔ اس سے پہلے کبھی کوتوالی جانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ میں ایک اجنبی کی طرح کوتوالی کے صحن میں ٹہلنے لگا۔ اتفاق سے کوتوال صاحب کمرے سے باہر نکلے اور ایک سفید پوش آدمی کو ٹہلتے ہوئے دیکھ کر پوچھا کہ آپ کیوں ٹہل رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ وہ آدمی جو حوالات کے قریب بیٹھا ہے اس کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ کیا کہنا ہے۔ میں نے صحیح واقعہ بیان کیا۔ ان کو میری بات پر یقین آگیا اور ڈانٹ کر ایک پولیس مین سے کہا کہ اس بے چارے کو کیوں بٹھارکھا ہے مولوی صاحب کے ساتھ کر دو۔ میں نے اسے رکشہ پر بٹھایا اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آگیا۔ اس تھوڑی سی خدمت کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بیس برس گزر جانے کے بعد بھی وہ ہریجن اور اس کے بچے مجھ سے ایسا معاملہ کرتے ہیں کہ جیسے میں نے کوئی بہت بڑا احسان کر دیا ہے۔ اس کے لڑکے کے پاس ہوتے ہیں تو میرا پیر چھونے آتے ہیں۔ ملازمت ملتی ہے تو ممنونیت کے اظہار کے لیے کچھ تحفہ تحائف بھی لاتے ہیں ، وہ دوسروں سے کہتے ہیں کہ یہ دیوتا ہیں "

ایک صاحب سے میں نے کہا کہ اپنا کوئی خاص تجربہ بتائیے ۔ انھوں نے کہا کہ ایک بار میں ایک دیہاتی علاقہ میں سفر کر رہا تھا۔ رات ہو چکی تھی۔ ایک جگہ پہونچا تو وہاں تین آدمی لاٹھی لیے ہوئے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues

Printed page