ہم کو مال کی ضرورت نہیں ، ہم کو جان کی ضرورت ہے
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۴۵
موجود تھے ۔ اتنے میں سامنے سے دو آدمی آگئے ۔ ان میں سے ایک شخص وہ تھا جس کو قتل کرنے کے ارادے سے یہ تینوں آدمی یہاں چھپے ہوئے تھے ۔ وہ آدمی جب وہاں پہنچا اور تین آدمیوں کو اسلحہ لیے ہوئے دیکھا تو اس نے فوراً سمجھ لیا کہ یہ لوگ اس کو مارنے کے لیے آئے ہیں ۔ اس نے فوراً اپنے ساتھی کو آواز دی اور اپنا کرتہ اتار کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بلند آواز سے کہا : یہ کرتا لے جاکر میری ماں کو دیدے اور اس سے بول کہ میری قبر تیار رکھے۔ اس نے بلند آواز سے یہ جملہ کہا اور پھر کھڑے ہوئے آدمیوں کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولا : تم میں سے جس کو آنا ہے میرے مقابلہ میں آئے ، میں تیار ہوں ۔ اس کے بعد تینوں میں سے کوئی شخص آگے بڑھنے کی ہمت نہ کر سکا ۔ سب خاموشی کے ساتھ واپس چلے گئے ــــ اکثر اوقات جرات کا مظاہرہ ہی دشمن کو زیر کرنے کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ اخبارات ورسائل میں آپ کے خلاف بہت لکھا جارہا ہے ، پھر آپ ان کا جواب کیوں نہیں دیتے ۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں میں قرآن کے اس اصول پر عمل کر رہا ہوں کہ : واعرض عن الجاهلين (نادانوں سے اعراض کرو) میں اپنے ان ناقدین کی چیزیں برابر پڑھتا رہتا ہوں ۔ مگر اب تک کوئی ایسی بات نہیں ملی جس کا جواب دیا جائے ۔ اب تک ہمارے خلاف چھپی ہوئی تمام تنقیدیں محض بے معنی الفاظ کے مجموعے ہیں نہ کہ حقیقتاً وہ چیز جس کو علمی زبان میں تنقید کہا جاتا ہے ۔ پھر آخر جواب دیا جائے تو کس بات کا جواب دیا جائے ۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ کے سفرناموں میں خود ستائی (Self-praise) ہوتی ہے ۔ میں نے کہا کہ دو چیزیں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں ۔ ایک ہے خود ستائی اور دوسری چیز ہے بیانِ واقعہ ۔ الرسالہ میں جو چیز ہوتی ہے وہ بیانِ واقعہ ہے نہ کہ خود ستائی ۔ اور بیانِ واقعہ میں کوئی بھی شرعی یا علمی قباحت نہیں ۔
۳مارچ ۱۹۸۷ کی صبح کو میں واپس دہلی پہنچا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues