سابق شاہ روس
الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۸
سابق شاہ روس
ولادیمیر اول (Vladimir I) ۹۵۶ءمیں پیدا ہوا، اور ۱۰۱۵ء میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ روس کا پہلا عیسائی بادشاہ ہے۔ وہ ابتداً بت پرست تھا۔ اس نے عیسائی مذہب قبول کر لیا۔ اس کے بعد اس نے روسی باشندوں کو عیسائی بنانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ ان کی اکثریت نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا۔ تمام بت دریاؤں میں پھینک دیئے گئے۔ گیارھویں صدی عیسوی کے ایک مسیحی راہب یعقوب (Jacob) نے اس سلسلہ میں جو تفصیلات بیان کی ہیں وہ بہت سبق آموز ہیں۔ اس نے لکھا ہے کہ شاہ روس ولادیمیر کا یقین اپنے آبائی مذہب (بت پرستی) سے اٹھ گیا۔ اس کے بعد اس نے تحقیق کے لیے یہودی، عیسائی اور اسلامی علماء کو بلایا۔ اور ہر ایک سے اس کے مذہب کے بارہ میں مفصل گفتگو کی انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، ۱۹۸۴ء، تذکره ولادیمیر)
یعقوب کے بیان کے مطابق یہودی علماء نے کہا کہ ہمارا خدا ہم سے ناراض ہے۔ اس لیے ہم کو نہیں معلوم کہ ہمارا مقام زمین میں ہے یا آسمان میں۔ ولادیمیر نے کہا کہ مجھے ایسے مذہب کی ضرورت نہیں۔
مسلم علماء کی زبان سے اسلام کی تعلیمات سن کر اس کو اسلام سے دلچسپی ہوئی حتی کہ وہ اسلام قبول کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ مگر اس نے کہا کہ میں شراب کا بہت زیادہ عادی ہوں، میں اور سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہوں مگر میں شراب کو نہیں چھوڑ سکتا۔ مسلم علماء نے کہا کہ ہمارے مذہب میں شراب حرام ہے اس لیے اگر تم اسلام قبول کرتے ہو تو تم کو شراب بھی لازماً چھوڑنی پڑے گی۔ اس نے علماء سے بہت زیادہ کہا کہ شراب کے معاملہ میں اسے رخصت دیدی جائے ۔ مگر علماء راضی نہیں ہوئے۔ چنانچہ بات ختم ہوگئی اور شاہ روس اسلام قبول کرنے سے باز رہا۔ اس کے بعد شاہ روس ولادیمیر نے عیسائی مذہب کے لوگوں سے گفتگو کی۔ عیسائی عالموں نے زیادہ حکمت اور دانش مندی کا ثبوت دیا وہ اگرچہ اپنے مذہب اور عقائد کے معاملہ میں بادشاہ کو زیادہ مطمئن نہ کر سکے۔ مگر انھوں نے شراب کے معاملہ میں بادشاہ کو رخصت دے دی۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues