Al-Risala · August 1987 · page 9

سابق شاہ روس

الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۹

مسیحیت پر اصولی اعتبار سے مطمئن نہ ہونے کے باوجود عملی اعتبار سے اس نے اس کو پسند کر لیا۔ چنانچہ گفتگو کے آخر میں شاہ روس نے مسیحی مذہب کو اختیار کر لیا ۔ پروفیسر رابرٹس کے الفاظ میں: یہ واقعہ روس کے تاریخ اور کلچر میں ایک نقطہ انقلاب بن گیا۔ ایک ملک جس کا مستقبل اسلام کی طرف جا سکتا تھا، اس کا مستقبل مسیحیت کی سمت میں چلا گیا۔

جن علماء نے سابق شاہ روس سے گفتگو کی ، ان کو اسلام کا ایک مسئلہ معلوم تھا، مگر ان کو اسلام کا دوسرا مسئلہ معلوم نہ تھا۔ وہ حرام و حلال کے قانونی مسئلہ کو جانتے تھے مگر وہ حکمت دعوت کے زیادہ گہرے مسئلہ کو نہیں جانتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے وہ نادانی کی جو اوپر کے واقعہ میں نظر آتی ہے ۔

اسلام میں بلاشبہ شراب کو حرام کیا گیا ہے ۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ شراب اول روز سے حرام نہ تھی ۔ مکہ میں جو لوگ مسلمان ہوتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے توحید اور رسالت کی بیعت لیتے تھے مگر شراب چھوڑنے کا حکم نہیں دیتے تھے ۔ چنانچہ مکہ کے اہل ایمان میں ایسے لوگ شامل تھے جو اسلام کے باوجود شراب پیتے رہے ۔ انھوں نے بعد کو اس وقت شراب پینا چھوڑا جب کہ وہ ہجرت کرکے مدینہ آئے اور شراب کے بارہ میں آخری حکم نازل ہوگیا ۔ اس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دعوت و تبلیغ کا آغاز شراب کا حکم بیان کرنے سے نہیں ہوتا اور نہ یہ ضروری ہے کہ ایمان لانے کے لیے ہر حال میں ترک شراب کی شرط لگائی جائے ۔ ترک شراب اگر پہلے مرحلہ میں ممکن نظر نہ آئے تو اس کو دوسرے مرحلہ کے لیے موخر کیا جا سکتا ہے ۔ یہاں ایک شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ شراب کے بارے میں رخصت اس وقت تک تھی جب تک اس کے بارے میں واضح حکم قرآن میں نہیں آیا تھا ۔ اب جب کہ شراب کی حرمت کا واضح حکم آچکا ہے تو اب یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک حرام کی ہوئی چیز کے بارے میں کسی کو رخصت دی جائے ۔ مگر یہ استدلال صحیح نہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues

Printed page