and raise him as a Muslim.
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۳۸
اپنشد سے ماخوذ نہیں ہو سکتا ۔ ڈاکٹر مہندر سنگھ نے میری بات سن کر کہا : I agree with your opinion. سردار جوگندر سنگھ نے فلسفہ میں ایم اے کیا ہے ، ان کا خاص موضوع مذاہب کا تقابلی مطالعہ ہے ۔ پہلے وہ ایک سرکاری ملازمت میں تھے ۔ ریٹائر ہونے کے بعد اب وہ ایک انگریزی ماہنامہ کے ایڈیٹر ہیں ۔ ان سے موجودہ سماجی بگاڑ پر گفت گو ہوئی ۔ میں نے کہا کہ اس عمومی بگاڑ کوقانون سازی کے ذریعہ ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ بگاڑ مزاجوں کے بگاڑ سے آیا ہے اور مزاجوں کی اصلاح سے ہی اس کا خاتمہ ہو سکتا ہے ۔ گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو اس بگاڑ کا خاص سبب یہ ہے کہ لوگوں کے اندر سے جواب دہی (Accountability) کا احساس ختم ہو گیا ہے ، اب اصلاح کی واحد شکل یہ ہے کہ لوگوں کے اندر دوبارہ یہ احساس پیدا کیا جائے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں بالآخر انھیں اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہونا ہے۔ سردار جوگندر سنگھ نے اس نقطہ نظر سے اتفاق کیا۔
پروفیسر وزیر سنگھ (پٹیالہ یونیورسٹی) سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ پنجاب میں موجودہ گڑبڑ کے باوجود گیہوں کی پیداوار پچھلے سالوں سے زیادہ ہوئی ہے یہ سکھ قوم کی انوکھی خصوصیت ہے کہ ایک طرف وہ تشدد میں جنون کی حد تک پہنچ گئے ہیں ، دوسری طرف وہ اپنے کھیتوں اور فارموں پر کام کر کے بدستور زبردست پیداوار حاصل کر رہے ہیں ۔ تاہم پروفیسر وزیر سنگھ نے تسلیم کیا کہ صنعتی پیداوار میں فرق پڑا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صنعت کو چلانے کے لیے باہر کے افراد بھی درکار ہوتے ہیں اور موجودہ گڑبڑ کی وجہ سے باہر کے لوگوں کی آمد پر کافی اثر پڑا ہے ۔
ایک غیر مسلم اسکالر نے بڑے زور و شور کے ساتھ یہ نظریہ پیش کیا کہ ہم کو ہر مذہب کا احترام کرنا چاہیے ۔ حتیٰ کہ ہمیں یقین کرنا چاہیے کہ ہر مذہب میں سچائی ہے ۔ اس کے بعد ۲۲۷ جون کو جمعہ کا دن تھا ۔ میں دوپہر کو ہوٹل سے نکل کر مسجد کے لیے روانہ ہوا تو اتفاق سے مذکورہ اسکالر مل گئے ۔ جب میں نے بتایا کہ مسجد میں نماز کے لیے جا رہا ہوں تو ان کی زبان سے نکلا : کیا مسجد ہی میں خدا ہے ، یہاں خدا نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues