Al-Risala · August 1987 · page 33

دعوت ایک ابدی طاقت

الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۳۳

سے مکہ چلا جائے تو مکہ کے لوگ اسے واپس نہیں کریں گے۔ مشرکین مکہ کی ضد یہاں تک بڑھی کہ جب معاہدہ لکھا جانے لگا تو انہوں نے معاہدہ کی عبارت میں محمد رسول اللہ لکھنے نہیں دیا۔ انہوں نے اصرار کیا کہ محمد بن عبد اللہ لکھا جائے ۔ اسی طرح انہوں نے و بھی بہت سی اشتعال انگیز باتیں کیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یک طرفہ طور پر ان کی تمام اشتعال انگیزیوں کو برداشت کر لیا۔ اور مشرکین مکہ کی اپنی شرائط پر دس سال کا نا جنگ معاہدہ کر کے حدیبیہ سے واپس آگئے۔ مشرکین کی شرائط کو یک طرفہ طور پر مان کر یہ معاہدہ اسی لیے کیا گیا تھا کہ دعوت کا دروازہ کھلے ۔ چنانچہ اس معاہدے کے بعد امن قائم ہو گیا۔ دونوں فریق کے لوگ آپس میں ملنے لگے۔ مومن اور غیر مومن کے درمیان دعوتی گفتگوئیں ہونے لگیں ۔ علم دین چاروں طرف پھیلنے لگا اور امن الناس واجتمع بعضهم ببعض وتكلم المومن مع الكافر وانتشر العلم النافع و الایمان، ابن کثیر)

جنگ بند ہونے کے بعد جو دعوتی کام شروع ہوا اس کے نتیجہ میں قبائل کے لوگ کثرت سے مسلمان ہونے لگے۔ معاہدہ حدیبیہ کے وقت قابل جنگ مسلمانوں کی تعداد اگر ڈیڑھ ہزار تھی تو دو سال سے بھی کم عرصہ میں ان کی تعداد دس ہزار ہو گئی ۔ چنانچہ اس کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ کی طرف مارچ کیا تو مکہ کے سردار ابو سفیان نے اعلان کر دیا کہ اطاعت قبول کر لو، کیوں کہ آج ہمارے اندر ان سے مقابلہ کی طاقت نہیں (هذا محمد قد جاءکم فیما لا قَبَلَ لكم به فمن دخل دار ابی سفیان فهو امن)

دعوت ایک ابدی طاقت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی قعدہ ۶ھ میں مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ آپ کے ساتھ آپ کے چودہ سو اصحاب تھے۔ آپ کا مقصد مکہ پہنچ کر عمرہ کرنا تھا۔ لمبا پر مشقت سفر طے کر کے آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے جو مکہ سے نو میل کے فاصلے پر ہے۔ یہاں قریش کے لوگ آگئے اور انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو اس کی اجازت نہیں دے سکتے کہ آپ مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کریں۔ دو ہفتہ تک گفتگو ہوتی رہی۔ مگر قریش راضی نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ آپ خود قریش کی شرائط پر ایک صلح کر کے واپس چلے آئے جس کو تاریخ میں صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues

Printed page