Al-Risala · August 1987 · page 34

ہرقل شہنشاہِ روم منذر بن ساوی شاہِ بحرین

الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۳۴

اس سفر سے واپسی کے بعد ہی آپ نے اطرافِ عرب کے حاکموں اور بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کیے۔ یہ دعوتی خطوط ۷ھ؁میںروانہ کیے گئے۔ جن لوگوں کو یہ خطوط روانہ کیے گئے ان کے نام یہ ہیں :

ہرقل شہنشاہِ روم منذر بن ساوی شاہِ بحرین

خسرو پرویز شہنشاہِ ایران جیفر و عبد جُلندری شاہِ عمان نجاشی شاہِ حبش ہوذہ بن علی حاکمِ یمامہ مقوقس شاہِ مصر و اسکندریہ حارث غسانی حاکمِ دمشق اگرچہ بعض حکمرانوں نے آپ کے دعوتی مکتوب کے ساتھ متکبرانہ معاملہ کیا اور اس کے نتیجہ میں وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے۔ مگر اکثر کے دل اس سے مرعوب اور متاثر ہوگئے اور کچھ نے اسلام قبول کر لیا۔ قیصر روم نے اپنی قوم کے ذمہ داروں سے کہا کہ آؤ ہم ان کے پیرو بن جائیں اور ان کی تصدیق کریں تاکہ ہماری دنیا اور آخرت دونوں سلامت رہیں (فـهـلـمـوا فـاسـتـتـبـع و لـصـدقـتـه فـتـسـلـم لـنـا د نـيـا نـا و آخـرتـنـا) حاکمِ یمامہ نے اپنے جواب میں لکھا کہ کتنی اچھی ہے وہ چیز جس کی طرف آپ بلاتے ہیں (ما احسن ما تدعوا الیه واجمله) عین اس وقت جب کہ اسلام مادی اعتبار سے پیش قدمی کی پوزیشن میں نہ تھا، وہ فکری اعتبار سے اس پوزیشن میں تھا کہ شاہانِ وقت کو اپنا مخاطب بناسکے۔ یہ تمام تر دعوت کا کرشمہ تھا۔ کوئی دشمنِ اسلام کے مادی اقدام پر روک لگا سکتا ہے۔ مگر اسلام کے فکری اقدام پر روک لگانا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اسلام بیرونِ عرب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے گیے تو اسلام عرب میں غالب آچکا تھا۔ تاہم عرب کے آس پاس ممالک میں جو قومیں آباد تھیں ان کا مذہب تہذیب اور زبان سب اسلام سے بالکل الگ تھی۔ اس وقت وہ وسیع دنیا وجود میں نہیں آئی تھی جس کو آج عرب دنیا (Arab world) کہا جاتا ہے۔

یہ صورت حال اسلام کی زندگی کے لیے مستقل خطرہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اگر صرف جزیرہ نمائے عرب تک محدود رہتا تو بعد کے زمانے میں خود اس کا وجود قائم رہنا مشکل

‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues

Printed page