Al-Risala · August 1987 · page 40

مغل تاتاریوں کا قبول اسلام

الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۴۰

" ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اسلام کی مشعل اُن ملکوں میں لے جائیں جو برکات اسلام کی نعمت سے محروم ہو چکے ہیں ۔ ان بد قسمت قبائل کے ہاں نہ تو مدارِس ہیں اور نہ کوئی شیخ ہے جو اُن کے بچوں کو اصولِ اخلاق اور محاسنِ اسلام کی تعلیم دے سکے ۔ یہ لوگ جانوروں کی طرح رہتے ہیں جن کو نہ خدا کا علم ہے ، نہ دین کا ۔ لہٰذا میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس ناگوار صورتِ حال کی اصلاح کے لیے تمہاری دینی حمیت اور تمہارے نورِ ایمان سے درخواست کروں تاکہ یہ کوہستانی لوگ اپنی قابلِ رحم جہالت کی دلدل میں غلطاں و پیچاں نہ رہیں اور ہمارے دین کی شاندار صداقتوں سے باخبر ہو جائیں۔ جاؤ! اور ان کے ایمان کی بجھتی ہوئی آگ کو ہوا دو اور اس کی دبی ہوئی چنگاریوں کو دوبارہ روشن کرو۔ اپنے پہلے مذہب یعنی عیسائیت کی جس ضلالت سے وہ اب تک آلودہ ہیں ، اس سے ان کو پاک کرو اور ان کو یہ سمجھاؤ کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں عیسائیت کے برعکس میل کچیل اللہ تعالیٰ کی نظروں میں مقبول نہیں ہے ۔ میں تم سے یہ بات پوشیدہ نہیں رکھنا چاہتا کہ تمہارے کام میں بہت سی دشواریاں ہیں ۔ لیکن تمہاری نا قابلِ تسخیر حمیتِ اسلامی اور حرارتِ ایمانی خدا کے فضل و کرم سے تمام مشکلات پر غالب آئے گی ۔ میرے بچو! جاؤ ، اور اس بد نصیب قوم کو خدا اور اس کے رسول کی طرف دوبارہ لاؤ جو اس وقت جہالت اور کفر کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے ۔ ان کو نجات کا پیغام پہنچاؤ۔ خدا تمہارے شاملِ حال رہے اور تمہاری مدد فرمائے ۔ "

یہ مبلغ پانچ پانچ ، چھ چھ کی جماعتوں میں مختلف اطراف میں روانہ ہو گئے۔ وہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے اور ہاتھ میں عصا لیے چل دیئے اور انھوں نے پہاڑوں کے سنسان اور غیر آباد مقامات کا انتخاب کر کے وہاں کے غاروں میں چٹانوں کے درمیان خانقاہیں قائم کیں ۔ قبائل کے درمیان ان کی پرہیزگاری اور عبادت گزاری کا چرچا ہونے لگا ۔ چنانچہ یہ قبیلے جلد ہی ان کے ساتھ راہ و رسم پیدا کرنے لگے ۔ ان مبلغوں نے آہستہ آہستہ اپنے علمِ طب اور صنعت و حرفت اور تمدن کے دوسرے فوائد کی بدولت بربری قبائل کے یہاں کافی اثر و رسوخ قائم کر لیا ۔ حتیٰ کہ ہر خانقاہ اسلامی تعلیم و دعوت کا مرکز بن گئی ۔ ان نو واردوں کے علم و فضل کی کشش سے بہت سے لوگ علم کی طلب میں ان کے گرد جمع ہو گئے ۔ کچھ عرصہ بعد یہی طالبِ علم اپنے ابنائے وطن میں اسلام کی تبلیغ کرنے لگے ۔ یہاں تک کہ ان کا مذہب بربری قبائل کے تمام علاقوں اور الجزائر کی تمام بستیوں میں پھیل ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues

Printed page