جزائر ملایا میں اسلام
الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۲۹
گیا (صفحہ ۲۹ - ۱۲۸)
جزائر ملایا میں اسلام
جنوب مشرقی ایشیا کے علاقہ میں ۲۲ ملین (۲۰ کروڑ) مسلمان ہیں۔ صرف انڈونیشیا میں ۲۰ ملین مسلمان ہیں۔ یہ تعداد کسی بھی دوسرے مسلم ملک سے زیادہ ہے۔ اس علاقہ میں مسلمانوں کی کثیر تعداد کا سب سے زیادہ اثر انگیز پہلو یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر صرف تبلیغی عمل کے ذریعہ مسلمان ہوئے ہیں۔ اس علاقہ میں کبھی بھی مسلمانوں کی طرف سے کوئی فوجی اقدام نہیں کیا گیا۔ اس علاقہ میں اسلام کا نمایاں ظہور ۱۳ ویں صدی عیسوی میں ہوا۔ اور یہی وہ صدی ہے جس میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت پر زوال آیا۔ پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے لکھا ہے کہ جزائر ملایا کی تاریخ پچھلی چھ صدیوں میں اسلامی تاریخ کا نہایت دلچسپ باب پیش کرتی ہے ۔ جہاں اسلام کی اشاعت تمام تر صرف تبلیغی کوششوں کے ذریعہ ہوئی (صفحہ ۳۶۷)
۱۳ ویں صدی وہ صدی ہے جب کہ اسپین میں اسلامی سلطنت پر زوال آیا۔ اور یہی وہ صدی ہے جب کہ اسلام جزائر ملایا میں فکری فتح حاصل کر رہا تھا۔ ڈاکٹر کرافورڈ (Dr. Crawford) نے اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ بڑا عجیب حسن اتفاق ہے کہ اسلامی مذہب عین اس وقت ایشیا میں بڑھ رہا تھا جب کہ وہ یورپ سے نکال دیا گیا تھا :
It may be remarked as a singular co-incidence that the Mohammedan religion was extending itself thus in Asia at the very time it was expel- led from Europe. پروفیسر آرنلڈ اپنی کتاب پریچنگ آف اسلام میں لکھتے ہیں کہ بعد کے سالوں میں اگرچہ اسلام کی عظیم سلطنت ٹوٹ گئی اور اسلام کی سیاسی طاقت بہت گھٹ گئی تب بھی اس کی روحانی فتوحات کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہیں۔ جب منگول قبائل نے ۱۲۵۸ میں بغداد کو تباہ کیا اور عباسی خلافت کی عظمت کو خون میں غرق کر دیا، اور جب فرڈیننڈ نے ۱۲۳۶ میں مسلمانوں کو قرطبہ سے نکال دیا اور غرناطہ کے مسلم سلطان نے عیسائی بادشاہ کو خراج ادا کیا، اس وقت اسلام سما ترا میں اپنی جگہ بنا چکا تھا اور جزائر ملایا میں فاتحانہ اقدام کر رہا تھا۔ سیاسی انحطاط کے لمحات میں اسلام نے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues