Al-Risala · January 1987 · page 39

and raise him as a Muslim.

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۳۹

میں نے کہا کہ آپ حضرات اپنی باتوں میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ ورنہ آپ اس کی حقیقت بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں۔ مسجد میں باجماعت نماز اس لیے ادا نہیں کی جاتی کہ وہاں خدا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اجتماعی عبادت کے لیے کوئی نہ کوئی مشترک جگہ مقرر کرنی ہوگی۔ جیسے اپنی کانفرنس کے لیے آپ نے ایک ہال کو مخصوص کیا ہے۔ اگر ایک ہال متعین نہ کیا جائے تو مشترک اجتماع کیسے ہو سکتا ہے ۔

اس زمانہ کا ایک عجیب مسئلہ تخصص (Specialization) ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر عالم صرف " جزو " کا عالم ہے ۔ " کل " کا کوئی عالم نہیں ۔ اس کی توجیہہ یہ کی جاتی ہے کہ کل کا علم بے حد مشکل ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جزو کا علم اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ کیوں کہ ہر جزو اپنے کل سے اس طرح وابستہ ہوتا ہے کہ جزو اور کل کے درمیان نسبت کو جانے بغیر تنہا جزو کو سمجھنا بے حد دشوار ہے ۔

میں ایک سکھ اسکالر سے ملا۔ ان سے میں سکھ مذہب کی بعض بنیادی باتوں پر تبادلہ خیال کرنا چاہتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے سکھ ہسٹری پر اسپشلائز کیا ہے ، اس لیے میں آپ کے سوالات کا جواب نہ دے سکوں گا۔ اس کے بعد میں دوسرے سکھ پروفیسر سے ملا۔ انھوں نے کہا کہ میں سکھ فلاسفی کا طالب علم ہوں۔ اور آپ کے سوالات کا تعلق سکھ تھیالوجی سے ہے ۔ اس لیے میں اس پر گفتگو کے لیے زیادہ موزوں نہیں ۔ پھر میں نے کہا کہ کسی ایسے شخص کا نام بتائیے جو سکھ تھیالوجی پر ایکسپرٹ کی حیثیت رکھتا ہو ۔ انھوں نے کچھ دیر سوچا۔ اس کے بعد ایک سکھ عالم کا نام لیا اور کہا : ” وہ سکھ تھیالوجی کے مستند عالم ہیں “ میں ان سے مذکورہ بزرگ کا پتہ پوچھنے والا تھا کہ انھوں نے کہا ” مگر افسوس کہ ان کا انتقال ہو چکا ہے ۔ “ ایک مرتبہ میں ہوٹل میں چپ چاپ بیٹھا ہوا تھا۔ ایک پروفیسر مجھ کو کئی بار اس طرح خاموشی کی حالت میں دیکھ چکے تھے۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا :

You are observing what is called in Buddhism 'thundering silence.' آپ اس حالت میں ہیں جس کو بدھزم میں پر شور خاموشی کہا جاتا ہے ۔

امریکہ کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص سے ملاقات ہوئی ۔ ان کا نام اسٹیو سکر ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues

Printed page