Al-Risala · August 1987 · page 42

جزائر ملایا میں اسلام

الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۴۲

اپنی بعض شاندار روحانی فتوحات حاصل کی ہیں (صفحہ ۳)

وان لیر (Van Lear) نے لکھا ہے کہ جو شخص بھی انڈونیشیا کی تاریخ میں داخل ہوتا ہے وہ ایک نا معلوم دنیا میں داخل ہوتا ہے ۔ لوگ عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی پر اسرار ، معجزاتی طاقت کارفرما تھی جس نے جنوب مشرقی ایشیا کے لوگوں کو اسلام میں داخل کر دیا۔ یہ صحیح ہے کہ ایک معجزاتی طاقت اس اشاعت اسلام کے پیچھے کام کر رہی تھی۔ مگر یہ کوئی پر اسرار طاقت نہ تھی بلکہ یہ اسلام کی دعوتی طاقت تھی۔ اسلام کی دعوتی طاقت کے اندر بلاشبہ اس بات کی معجزاتی صلاحیت چھپی ہوئی ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچے اور لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے کے لیے مجبور کر دے ۔

اس علاقے میں اسلام تاجروں کے ذریعہ داخل ہوا۔ تاجر کے اندر جو اخلاقیات ہوتی ہیں وہ داعی کی اخلاقیات ہیں۔ بہترین داعی وہی ہے جو تاجر کی طرح مدعو کے ساتھ معاملہ کرے ۔ ایسا داعی کبھی اپنے مشن میں ناکام نہیں ہو سکتا۔

الکس ڈی ٹاکویل (Alex de Toqueville) نے لکھا ہے کہ تجارت متشددانہ جذبات کی قاتل ہے۔ تجارت اعتدال اور مفاہمت کو پسند کرتی ہے۔ تاجر آدمی اس معاملہ میں نہایت محتاط ہوتا ہے کہ وہ غصہ سے اعراض کرے۔ تاجر برداشت والا ہوتا ہے۔ تجارت ایک تاجر کے اندر یہی صفات پیدا کرتی ہے۔ اسی لیے ایک مفکر نے کہا ہے کہ خدا تجارت کو اپنا مبلغ بناتا ہے :

God is making commerce His missionary. اسلامی دعوت بیسویں صدی میں بیسویں صدی مسلم تحریکوں کی صدی ہے۔ اس صدی میں مسلمانوں نے بے شمار بڑی بڑی تحریکیں اٹھائیں۔ یہ تمام کی تمام سیاسی اور انقلابی تحریکیں تھیں۔ ان تحریکوں کو افراد اور وسائل کا اتنا زیادہ سرمایہ ملا جو کمیت کے اعتبار سے انہیں کامیاب بنانے کے لیے کافی تھا۔ مگر یہ تحریکیں اپنی تمام تر وسعت کے با وجود نا کام ہو کر رہ گئیں۔ ان سے امت کو کسی بھی قسم کا کوئی مثبت فائدہ نہیں ملا ۔ یہ تحریکیں طوفان کی طرح اٹھیں اور گرد و غبار کی طرح مٹ گئیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues

Printed page