جزائر ملایا میں اسلام
الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۲۳
بیسویں صدی میں مسلمانوں کا یہ حال سیاسی اعتبار سے تھا۔ مگر عین اسی صدی میں اسلام کی دعوتی طاقت ہر ملک کے لوگوں کو مسخر کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اگرچہ اسلامی دعوت کے میدان میں مسلم قائدین نے کوئی بھی قابلِ ذکر کوشش نہیں کی۔ مگر اسلام اپنی ذاتی قوت سے مسلسل لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بناتا رہا ہے۔ پچھلے ایک سو سال کے اندر دنیا کے مختلف حصوں میں جن لوگوں نے اسلام قبول کیا، ان کی تعداد لاکھوں سے بھی زیادہ ہے۔ یہاں ہم ان میں سے کچھ افراد کا نام بطور علامت درج کر رہے ہیں ۔ اس فہرست سے اندازہ ہوگا کہ کس طرح پچھلے سو سال کے اندر ہر زمانہ میں لوگ اسلام قبول کرتے رہے ہیں ۔ ناموں کے سامنے ان کے قبولِ اسلام کا سن دیدیا گیا ہے : 1 Prof. Haroon Mustafa Leon England 1822 2 Mohammad Alexander Russel Webb U.S.A. 1890 3 Dr Nishikanta Chattopadhyay Hyderabad 1904 4 Lord Headly al-Farooq England 1913 5 Dr William Burchell B. Pickard England 1922 6 Sir Abdulla Archibald Hamilton England 1923 7 Mohammad Leopold Asad Austria 1926 8 Muhammad Marmaduke Pickthall England 1935 9 Dr Abdul Karim Germanus Hungary 1940 10 Dr ali Muhammad Mori Japan 1947 11 Dr Ali Selman Benoist France 1953 12 Dr R.L. Mellema Holland 1955 13 Ibrahim Khalil Phillips Egypt 1960 14 Prof. A.H.B. Hewett U.S.A. 1966 15 Umar Bongo (President, Gabon) Gabon 1973 16 Dr Roger Garoudy France 1982 17 Moosa Fondi Tanzania 1986 18 Abdullah Adiar Madras 1987 یہ تمام لوگ وہ ہیں جنھوں نے بطورِ خود اسلام کا مطالعہ کیا۔ ان کو اسلام کی تعلیمات نے متاثر کیا۔ ان میں سے کئی لوگوں نے اسلام کو براہِ راست سمجھنے کے لیے عربی زبان سیکھی۔ اور آخر کار اسلام قبول کر لیا۔ بیسویں صدی مسلمانوں کے لیے بحیثیت قوم ناکامی کی صدی ہے، مگر عین اسی صدی میں اسلام بحیثیتِ دین کے مسلسل آگے بڑھتا رہا ہے اور بڑھ رہا ہے۔ حرف آخر اسلام کی پوری تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ اسلام کی دعوت اسلام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اسلام عین انسانی فطرت کے مطابق ہے۔ اگر وہ اپنی اصلی صورت میں انسان
‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues