Al-Risala · August 1987 · page 24

جزائر ملایا میں اسلام

الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۲۴

کے سامنے لایا جائے تو وہ سیدھا آدمی کے دل میں اتر جاتا ہے، وہ آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اس کی صداقت کا اعتراف کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اپنی ذات میں تسخیری طاقت رکھتا ہے۔ وہ خود لوگوں کو متاثر ہونے پر مجبور کرتا ہے۔

مگر اس طاقت کو بروئے کار لانے کے لیے ضروری ہے کہ اسلام اور اس کے مخاطب کے درمیان سے تمام نفسیاتی رکاوٹیں دور کر دی گئی ہوں۔ دور اول کے مسلمان اس راز کو جانتے تھے ۔ چنانچہ وہ جن قوموں کے درمیان گئے اور جن ممالک کو فتح کیا، انھوں نے ان کے ساتھ کامل رواداری کا طریقہ اختیار کیا۔ انھوں نے ہر ایک کو اس کے مذہب کی پوری آزادی دی ۔ وہ جانتے تھے کہ اگر انھوں نے لوگوں کے ساتھ قومی نزاع کھڑی کی یا مذہب کے معاملہ میں ان پر جبر کرنا شروع کیا تو ان کے اندر ضد کی نفسیات پیدا ہو جائے گی۔ ضد کی بنا پر وہ ایک ماننے والی چیز کو بھی ماننے سے انکار کر دیں گے ۔

مشہور انگریز مورخ ہنری ٹامس بکل (۱۸۶۲ء - ۱۸۲۱ء) نے قدیم مسلمانوں کی اس حکمت اور تدبر کا کھلے لفظوں میں اعتراف کیا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ اسلامی مبلغ بے حد سمجھ دار اور دور اندیش ہیں: The Mahometan missionaries are very judicious (p. 409). پروفیسر آرنلڈ کی کتاب پریچنگ آف اسلام (The Preaching of Islam) میں اس کے مصنف نے نہایت تفصیل کے ساتھ دکھایا ہے کہ دور اول کے مسلمانوں نے ہر جگہ مکمل مذہبی رواداری کا طریقہ اختیار کیا۔ انھوں نے سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے باوجود کبھی غیر مسلموں کے ساتھ مذہبی جھگڑے نہیں کھڑے کیے۔ اور یہ بہت بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر دور قدیم کی آباد دنیا کا بہت بڑا حصہ اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گیا ۔

اسلام کی یہ دعوتی قوت آج بھی ظاہر ہو سکتی ہے، بشرطیکہ موجودہ مسلمان وہ تمام قومی نزاعات ختم کر دیں جو وہ ہر ملک میں اپنے غیر مسلم ہمسایوں سے چھیڑے ہوئے ہیں۔ یہ قومی نزاعات جن کو غلطی سے جہاد کا نام دیدیا گیا ہے، اسلام کی دعوتی قوت کے ظہور میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جس دن یہ نزاعات ختم ہوں گے ، اسی دن اسلام کا دعوتی سیلاب موجزن ہو جائے “ گا اور اس وقت تک نہ تھمے گا جب تک وہ اپنی آخری حد کو نہ پہنچ جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues

Printed page