and raise him as a Muslim.
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۴۰
(Steve Sklar) ہے ۔ وہ اسلام سے متاثر تھے مگر وہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں سے سخت نالاں تھے ۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کئی مشہور مسلم مصنفین کے نام لیے اور کہا کہ میں نے ان کی کتابوں کے انگریزی ترجمے پڑھے ہیں ۔ مگر یہ کتابیں مجھے دعوتی نقطہ نظر سے کوڑا (Rubbish) معلوم ہوئیں ۔
میں نے پوچھا کہ ان کتابوں کے بارہ میں آپ کی اتنی سخت رائے کیوں ہے ۔ اس کے جواب میں انھوں نے کئی باتیں بتائیں ۔ انھوں نے کہا کہ ان کتابوں میں اکثر اسلام کا مقابلہ مغربی تہذیب سے کیا جاتا ہے ۔ میں مغربی تہذیب کا وکیل نہیں ہوں ۔ مگر اس میں شک نہیں کہ ان لوگوں نے تقابل کا جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ سراسر غیر علمی ہے ۔ مثلاً ان کتابوں میں عام طور پر آئیڈیل کا تقابل پریکٹس سے کیا گیا ہے ۔ اسلام کی نمائندگی کے لیے تو قرآن و حدیث کا کوئی اقتباس لے لیا گیا ہے ۔ اور مغرب کی نمائندگی کے لیے اس کا کوئی عملی واقعہ پیش کیا گیا ہے ۔ یہ برابری کا تقابل نہیں ۔
آپ کو تقابل کرنا ہے تو آئیڈیل کا تقابل آئیڈیل سے اور پریکٹس کا تقابل پریکٹس سے کیجیے ۔ مثلاً اسلام میں حقوق انسانی کو بتانے کے لیے اگر آپ خطبہ حجۃ الوداع کے الفاظ پیش کر رہے ہیں تو مغرب میں حقوق انسانی کے تصور کو بتانے کے لیے اقوام متحدہ کا چارٹر پیش کیجیے ۔
انھوں نے کہا کہ ان کتابوں میں اگر کہیں عمل کا تقابل عمل سے ہے تو وہاں بھی ایک غلط قسم کی تعمیم (Generalization) پائی جاتی ہے ۔ وہاں یہ کیا گیا ہے کہ اسلام کی تاریخ سے تو ایک اچھا واقعہ چن لیا گیا ہے اور اس کو اسلام کی عمومی حالت بتایا گیا ہے ۔ دوسری طرف مغربی معاشرہ سے ایک برا واقعہ تلاش کر کے لیا گیا ہے اور اس کو اس طرح پیش کیا گیا ہے گویا یہی مغرب کی عام حالت ہو ۔ حالاں کہ یہ دونوں ہی باتیں واقعے کے خلاف ہیں ۔ انھوں نے الرسالة (انگریزی) کے کچھ شمارے دیکھے ۔ انھوں نے اس کو بہت پسند کیا ۔ انھوں نے کہا کہ جس انداز میں آپ اسلام کو پیش کر رہے ہیں اگر اس انداز میں اسلام کو اہل مغرب کے سامنے لایا جائے تو مجھے یقین ہے کہ وہ ضرور ان کو متاثر کرے گا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues