The Philosophy of Kalam
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۴۱
ڈاکٹر اوصاف علی صاحب خالص علمی مزاج کے آدمی ہیں ۔ مطالعہ وسیع ہے اور انگریزی پر بخوبی قدرت حاصل ہے ۔ ان سے بہت دل چسپ ملاقاتیں ہوئیں ۔ انھوں نے بتایا کہ امریکہ میں ایک کتاب الکلام کے بارہ میں چھپی ہے جس کا نام ہے :
The Philosophy of Kalam
اس کے مصنف پروفیسر وولف سن (Prof. Wolfson) ہیں ۔ حال میں بڑھاپے کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا ۔ مذکورہ کتاب کی تیاری میں انھوں نے بیس سال گزار دیے ۔ امریکہ کی ایک یونیورسٹی اس سلسلہ میں انھیں مالیات فراہم کر رہی تھی چنانچہ اس نے ۲۰ سال میں تقریباً تین کروڑ روپے انھیں دیئے ۔
پروفیسر وولف سن رات دن تحقیق اور مطالعہ میں مصروف رہتے تھے ۔ ایک بار ان کا ایک دوست ان کے کمرے میں آیا ۔ اس نے محسوس کیا کہ کمرہ میں بو آ رہی ہے ۔ اس نے پروفیسر موصوف سے پوچھاا : کیا آپ اپنے کمرہ کی صفائی نہیں کراتے۔ انھوں نے کہا نہیں۔ دوست نے دوبارہ پوچھ کہ کیوں ۔ انھوں نے جواب دیا ، تم دیکھتے ہو یہاں کس طرح میرے کاغذات پھیلے ہوئے ہیں ۔ مجھے اندیشہ رہتا ہے کہ صفائی کرنے والی خاتون آئے گی تو میرے کاغذات ادھر اُدھر کر دے گی ۔ میرا ذہن ڈسٹرب ہو جائے گا ۔
ایک بار تلفظ کے فرق کی بات ہورہی تھی ۔ ڈاکٹر اوصاف علی صاحب نے اس سلسلہ میں کئی دل چسپ واقعات بتائے ۔ وہ حج کے سلسلے میں عرب گیے ہوئے تھے ۔ ایک بار سفر کرتے ہوئے پیچھے کی گاڑی کے ڈرائیور نے چلا کر کہا : گڈزم گلیل ۔ وہ عربی زبان جانتے ہیں مگر ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ کہنے والا کیا کہہ رہا ہے ۔ پوچھنے پر ان کے ساتھی نے کہا کہ وہ کہہ رہا ہے : :قَدِّم قلیل (تھوڑا آگے بڑھو) اسی طرح ان کے یہاں ایک امریکن آئے ۔ ایک ہندوستانی نے ان سے بات کرتے ہوئے " ماس کیٹو " کا لفظ استعمال کیا ۔ امریکی پروفیسر کی سمجھ میں یہ لفظ نہ آسکا ۔ اس کے بعد ڈاکٹر اوصاف علی نے امریکی لہجے میں کہا کہ وہ کہہ رہے ہیں "مس کی ٹو" تب وہ سمجھا کہ ہندوستانی آدمی کی مراد مچھر سے تھی ۔
نزاد چودھری لندن میں رہتے ہیں اور ہندوستان کے زبردست ناقد ہیں ۔ ڈاکٹر
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues