Al-Risala · September 1987 · page 19

خدا کی تنبیہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۹

ان کے اوپر فرض ہے۔

مسلمان اس ملک میں سیکڑوں سال سے ہندوؤں کے ساتھ رہ رہے ہیں مگر ان کے درمیان کوئی ایک بھی قابل ذکر تحریک یا قابل ذکر شخصیت نہیں ابھری جو مسلمانوں کو ان کے داعیانہ فرض کی طرف توجہ دلائے۔ یہ مسلمانوں کی زندگی کا سب سے بڑا خلا ہے جس پر اٹھیں سب سے زیادہ غور کرنا چاہیے۔

مسلمانوں کی عظیم اکثریت کا یہ حال ہے کہ اس کو اس کام کی اہمیت کا شعور ہی نہیں۔ بعض افراد اگر اس کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں تو وہ بھی یہ کہہ کر عملاً اسے قابلِ ترک قرار دیدیتے ہیں کہ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کر لو، اس کے بعد غیر مسلموں کی اصلاح کرنا۔ یہ دونوں ہی باتیں یکساں طور پر خدا کے غضب کو دعوت دینے والی ہیں۔ پہلی روش اگر خدا اور رسول کے حکم سے سرتابی ہے تو دوسری روش کا مطلب خود اپنے آپ کو خدا اور رسول کی جگہ بٹھانا ہے۔ کیوں کہ سارے قرآن و حدیث میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہوا ہے کہ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کرو، اور جب مسلمانوں کی اصلاح کا کام مکمل ہو جائے اس کے بعد غیر مسلموں کو خدا کے دین کی دعوت دو۔ اور جب قرآن و حدیث میں ایسا کوئی حکم بیان نہیں ہوا تو کسی کو کیا حق ہے کہ وہ احکام دین کی فہرست میں خود ساختہ طور پر اس قسم کے ایک حکم کا اضافہ کرے۔

مسلمانوں کا موجودہ مسئلہ اسی فرض سے ان کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ مسائل کا یہ سلسلہ اس وقت تک باقی رہے گا جب تک غفلت کی یہ صورتِ حال باقی رہے۔ ان مسائل کا حل یہ نہیں ہے کہ مسلمان دوسروں کو اس کا ذمہ دار قرار دے کر ان سے لڑنا شروع کر دیں۔ ان کا واحد حل یہ ہے کہ وہ اپنی کوتاہی کا اقرار کر کے اس فریضہ دعوت کو ادا کرنا شروع کر دیں جس کو انہوں نے صدیوں سے چھوڑ رکھا ہے۔ اس کے سوا ہر دوسری تدبیر ان کی سرکشی میں اضافہ کے ہم معنی ہے نہ کہ مسئلہ کے حل کی طرف پیش قدمی۔

مسلمان اگر بالفرض یہ محسوس کریں کہ وہ برادرانِ قوم کو دعوت دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، تب بھی وہ یقینی طور پر ایک کام کرنے کی پوزیشن میں ہیں، اور وہ دعا ہے۔ "دعوت نہ دے سکو تو دعا کرو" یہ ایک لفظ میں مسلمانوں کے پروگرام کا خلاصہ ہے۔ مسلمانوں کو پورے اخلاص

‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues

Printed page