Al-Risala · September 1987 · page 20

A candle lights others and consumes itself.

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۰

کے ساتھ برادرانِ وطن کی ہدایت کا حریص بننا چاہیے ۔ دعوت کے مواقع نہ ہوں تو ان کے حق میں دل کی گہرائیوں کے ساتھ دعا کرنا چاہیے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ براہِ راست دعوت کے مواقع ہمارے لیے کھول دے ۔

مگر مسلمانوں کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے ۔ برادرانِ وطن کو خدا کے دینِ رحمت کا مخاطب بنانا تو درکنار ، مسلمان پچاس برس سے ان کے خلاف بددعائیں کرنے میں مشغول ہیں۔ ان کے تمام اصاغر و اکابر اللهم اهلك الكفرة والمشركين کی پکار بلند کیے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ ان کی اس قسم کی بددعا کبھی خدا کے یہاں قبول ہونے والی نہیں ، خواہ مسلمان ایک ہزار سال تک اس کے الفاظ دہراتے رہیں ، اور خواہ ان کے تمام اکابر و اعاظم جمع ہو کر اس پر آمین کہہ رہے ہوں ۔

حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی تمام بددعائیں خدا کی منشا کے بالکل خلاف ہیں ۔ دوسری قوموں کے لیے ہمارے اندر یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ ہم ان کو خدا کے دین رحمت کے سایہ میں لائیں نہ کہ دینِ رحمت میں لانے کی واقعی کوشش کیے بغیر انھیں عذاب کے گڑھے میں دھکیلنے لگیں ۔ آج خدا اس انتظار میں ہے کہ ہم اس کے سامنے لوگوں کی ہدایت کی دعا پیش کریں تاکہ وہ اس کو قبول کر کے اقوام عالم کے لیے ہدایت کا راستہ کھولے ۔ اور ہمارا حال یہ ہے ہم خدا کے سامنے لوگوں کی ہلاکت کی دعا پیش کر رہے ہیں ۔ ایسی دعا خود دعا کرنے والے کے منہ پر مار دی جائے گی ، وہ کبھی قبولیت کا شرف حاصل کرنے والی نہیں ۔

روشنی دینا دنیا کو سب سے بڑی چیز دینا ہے۔ مگر روشنی دینا سب سے بڑی قربانی کی قیمت پر ہوتا ہے ۔ دنیا کو "روشن" کرنے کے لیے اپنے آپ کو "بے روشن" کر لینا پڑتا ہے ۔ اسی بات کو ایک مغربی مفکر نے ان لفظوں میں کہا ہے کہ موم بتی دوسروں کے لیے اُجالا کرتی ہے مگر وہ خود اپنے آپ کو فنا کر لیتی ہے :

A candle lights others and consumes itself.

داعی کی مثال بھی یہی ہے۔ چنانچہ پیغمبر کو قرآن میں سراجِ منیر کہا گیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے ۔ داعی کا مقام بہت بلند ہے۔ داعی کے لیے دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی نعمتیں مقدر

‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues

Printed page