Al-Risala · January 1987 · page 24

The Philosophy of Kalam

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۲۴

اوصات علی صاحب سے ان کی بار بار ملاقات ہو چکی ہے۔ میں نے پوچھا کہ نزاد چودھری میں یہ منفی ذہن کیسے پیدا ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ اس سے پہلے نزاد چودھری ہندوستان میں تھے۔ یہاں وہ آل انڈیا ریڈیو میں کام کر رہے تھے۔ مگر وہ "نیوز ریڈر" سے زیادہ ترقی نہ کر سکے۔ ان کو نہ پروموشن مل سکا اور نہ ریڈیو میں کوئی بڑا عہدہ۔ چنانچہ وہ ہندوستان چھوڑ کر لندن چلے گیے ۔ یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ کس طرح آدمی ذاتی شکایت کو قومی شکایت بنا لیتا ہے ۔

انڈین ایکسپریس کے بنگلور ایڈیشن (۳۰ جون ۱۹۸۶) میں ایک دل چسپ رپورٹ پڑھی اس کا عنوان تھا شیر کی کہانی (Tiger Story) ایک ملکی خبر رساں ایجنسی نے شموگا کی ڈیٹ لائن کے ساتھ ایک خبر نشر کی جو تمام اخبارات میں نمایاں طور پر چھپی۔ یہ ایک شخص (عطاءءءءء اللہ) کی بہادری کی داستان تھی ۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ ۱۸ جون ۱۹۸۶ کو سولہ سالہ عطا اللہ شموگا کے ایک گاؤں ، میسور کے پاس سے گزر رہا تھا۔ اچانک ایک شیر برآمد ہوا اور اس نے عطا اللہ کے دوستوں پر حملہ کر دیا۔ عطا اللہ اگر چہ اس مقابله میں زخمی ہو گیا مگر اس نے شیر سے لڑ کر اسے بھگا دیا اور اب وہ اسپتال میں داخل ہے۔

شموگا کے ایک نامہ نگار مسٹر ارن اس کا قصہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں :

This correspondent who was cursing himself for having missed out on a good story, wanted to verify the story from the authorities concerned. یہ نامہ نگار اپنے کو بُرا بھلا کہہ رہا تھا کہ وہ اتنی اچھی کہانی کی رپورٹ نہ کر سکا۔ اس نے چاہا کہ متعلقہ ذمہ داروں سے اس کی تصدیق حاصل کرے ۔ چنانچہ مسٹر ارن نے مسٹر لکشمن کنزرویٹر آف فارسٹس ) کو ٹیلی فون کیا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے ایسے کسی واقعہ کا علم نہیں۔ اس کے بعد انھوں نے مسٹر بی کے سنگھ (ڈپٹی کنزرویٹر) کو ٹیلی فون کیا ۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے یہاں ایسی کوئی خبر نہیں سنی۔ البتہ دہلی کے اخبار میں پڑھ کر وہاں سے میرے ایک دوست نے مجھے ٹیلی فون کیا تھا۔ اس کے بعد میں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ قصہ صرف یہ ہے کہ مذکورہ عطا اللہ اور اس کے دوست میسور کے علاقہ سے شام کے وقت گزر رہے تھے کہ ایک جنگلی کتا نکل کر

‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues

Printed page