حج کا پیغام
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۲
حج کا پیغام
۱۹۸۲ سے پہلے میں نے حج کے بارے میں صرف کتابوں میں پڑھا تھا۔ ۱۹۸۲ میں مجھے خود بھی حج کا فریضہ ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس مطالعہ اور تجربہ کے بعد حج کا پیغام جو میری سمجھ میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ ـــــــــ انسان اپنے رب کی طرف دوڑے ، انسان اپنے خالق کو اپنی زندگی کا مرکز و محور بنائے ۔ حج کا عمل اگرچہ صرف چند دن کے لیے کیا جاتا ہے مگر وہ پوری زندگی کا ایک سبق ہے ۔ وہ انسان کی پوری زندگی کے لیے ایک علامتی رہنما ہے ۔
ایک آدمی جب اپنے وطن اور اپنے گھر بار کو چھوڑ کر حج کے سفر پر روانہ ہوتا ہے تو اس کا احساس یہ ہوتا ہے کہ وہ سفر کر کے اللہ کی طرف جا رہا ہے ۔ وہ اپنے آپ کو اپنی دنیا سے نکال کر خدا کی دنیا میں پہنچار ہا ہے ۔ وہ وہاں جا رہا ہے جہاں اللہ کا گھر (بیت اللہ) ہے ۔ جہاں اللہ کے رسول اور اس کے اصحاب کے کارنامے ثبت ہیں ۔ جہاں ان لوگوں کی زندگیوں کے نشانات ہیں جو اللہ کے لیے جئے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنی جان دیدی ۔ اسی کے ساتھ حاجی کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اس مقام کی زیارت کے لیے جا رہا ہے جس کو خدا نے اپنی آخری ہدایت کے اظہار کے لیے خصوصی طور پر چنا تھا ۔
اس طرح حج کا پہلا اثر یہ ہوتا ہے (یا یہ ہونا چاہیے کہ) حاجی کا ذہن خدا رخی ذہن بن جاتا ہے ۔ اس کو خدا کی یاد آنے لگتی ہے ۔ اس کا دماغ خدا کی باتوں سے بھر جاتا ہے ۔ اب تک اس کی سوچ اگر اپنی ذات کی طرف چل رہی تھی تو اب اس کی سوچ خدا کی طرف چل پڑتی ہے ۔ آدمی جس چیز کے بارے سوچے اسی کے لحاظ سے اس کی نفسیات بنتی ہے ۔ آپ اپنے ذاتی مقصد کے لیے اٹھیں تو آپ کا ذہن خود اپنی ذات کے گرد گھومے گا ۔ مگر جب ایک شخص خدا کی طرف روانہ ہو رہا ہو تو اس کا ذہن خدا کی طرف لگ جاتا ہے ۔ اس کو خدا والی باتیں یاد آنے لگتی ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ خدا نے مجھے پیدا کیا ۔ اسی نے مجھے ہر قسم کے مواقع دیئے ۔ اس نے مجھے اس قابل بنایا کہ میں دنیا میں کام کروں ۔ اسی کی توفیق سے یہ ممکن ہوا کہ میں وہ وسائل جمع کروں جن کی مدد سے آج میں بیت اللہ کی طرف جا رہا ہوں ۔ پھر آخر کار مجھ پر وہ دن آنے والا ہے جب کہ مجھ پر موت آئے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues