حج کا پیغام
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۳
اور میں خدا کے دربار میں براہِ راست حاضر کر دیا جاؤں۔
یہ چیزیں حاجی کے سفر کو مکمل معنوں میں ایک روحانی سفر بنا دیتی ہیں۔ بظاہر وہ ایک مادی سفر میں ہوتا ہے مگر اپنی اندرونی کیفیات کے اعتبار سے وہ ایک معنوی سفر کے اعلیٰ منازل طے کر رہا ہوتا ہے۔
جب حرم میں داخل ہونے کا وقت قریب آتا ہے تو تمام حاجی اپنے اپنے کپڑے اتار کر ایک نئے قسم کا "یونیفارم" پہن لیتے ہیں۔ ہر شخص ایک ہی قسم کا بغیر سلا ہوا لباس اپنے جسم کے اوپر ڈال لیتا ہے۔ یہ اس بات کی ایک عملی یاد دہانی ہے کہ حاجی اب نئی دنیا میں داخل ہو گیا ہے۔ اپنے قومی لباس کو اتار کر وہ اپنے آپ کو گویا اس طرزِ زندگی سے الگ کر لیتا ہے جو اس کے ماحول نے اسے سکھایا تھا۔ وہ اس احساس کو اپنے آپ پر طاری کر لیتا ہے جو خدا کو مطلوب ہے کہ آدمی اپنے اوپر طاری کرے۔ لاکھوں انسان اپنے اپنے رنگ کو چھوڑ کر اپنے آپ کو خدا کے رنگ میں رنگ لیتے ہیں۔
جسم پر احرام کا ربانی لباس ڈالنے کے بعد حاجی کی زبان بھی ربانی کلام بولنا شروع کر دیتی ہے۔ اب حاجی لبیک لبیک کی صدا بلند کرنے لگتا ہے۔ گویا کہ خدا اس کو پکار رہا تھا اور وہ اس کی پکار پر دوڑ کر آ گیا اور کہنے لگا کہ خدایا میں حاضر ہوں، خدایا میں حاضر ہوں۔ لبیک لبیک کہنے کا یہ عمل حاجی کی طرف سے برابر جاری رہتا ہے۔
"حاضر ہوں" کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مکہ میں رہنے کے لیے حاضر ہوں۔ یہ وطن کو چھوڑ کر آنے کا کلمہ نہیں بلکہ روش کو چھوڑ کر آنے کا کلمہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تیری فرمانبرداری کے لیے حاضر ہوں۔ میں اس کے لیے تیار ہوں کہ تو جو حکم دے اس پر میں دل و جان سے قائم ہو جاؤں۔ "لبیک" کا اقرار آدمی حج کے مقام پر کرتا ہے مگر اس کی عملی تصدیق وہاں سے لوٹ کر اس کو اپنے وطن میں کرنی پڑتی ہے جہاں کے روز و شب میں وہ اپنی زندگی گزار رہا ہے۔ مکہ پہنچ کر آدمی پہلا کام یہ کرتا ہے کہ وہ کعبہ کا طواف کرتا ہے۔ بیت اللہ ایک وسیع مسجد ہے۔ اس کے کشادہ صحن کے بیچ میں کعبہ کی وہ تاریخی عمارت کھڑی ہوئی ہے جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بنایا تھا۔ حاجی بیت اللہ کے صحن میں اس کعبہ کے چاروں طرف گھومتا ہے۔ وہ سات
‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues