سفرِ آخرت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۶
سفرِ آخرت
جولائی ۱۹۱۸۷ء کی ۲۱ تاریخ تھی اور دن کے ساڑھے دس بجے کا وقت۔ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ رسیور اٹھایا تو دوسری طرف سے آواز آئی ” میں حیدر آباد سے حبیب بھائی بول رہا ہوں۔ “ السلام علیکم اور وعلیکم السلام کے تبادلہ کے بعد دوسری آواز غم ناک لہجہ میں یہ سنائی دی ”میرے والد کا انتقال ہوگیا۔ “ آواز جانی پہچانی تھی۔ واضح طور پر یہ حبیب بھائی تھے جو ٹیلی فون پر بول رہے تھے۔ ”میرے والد“ کے لفظ سے بھی بلا اشتباہ بابو بھائی (غلام محمد صاحب) مراد تھے۔ مگر اس اچانک خبر کو سننے کے لیے میرا ذہن تیار نہ تھا۔ میں نے دوبارہ کہا ” کیا فرمایا ، کیا بابو بھائی“ انھوں نے کہا کہ ہاں بابو بھائی۔ میں نے کئی بار اپنے سوال کو دہرایا اور ہر بار یہی جواب ملا کہ ہاں، بابو بھائی کا انتقال ہو گیا۔ آخر مجھے ماننا پڑا کہ وہ بزرگ اب اس دنیا میں نہیں رہے جو اسلامی مرکز کے مشن میں اوّل روز سے میرے قریبی رفیق بنے ہوئے تھے۔ انتقال کے وقت مرحوم کی عمر ۵۳ سال تھی۔ سالِ پیدائش ۱۹۳۴ء ہے۔
بابو بھائی کو پہلی بار میں نے بھوپال میں ہونے والے اسلامی مرکز کے اجتماع میں دیکھا تھا۔ ۸ اپریل ۱۹۸۲ء کو جب میں اجتماع گاہ میں پہنچا تو ایک صاحب ملاقات کے لیے میری طرف بڑھے۔ بھرا ہوا جسم، سادہ لباس، چہرہ پر ہلکی مسکراہٹ، بولنے سے زیادہ سننا، کہنے سے زیادہ کرنا، پورا اور جوید سنجیدگی کی تصویر بنا ہوا۔ یہ تھا ان کا حلیہ۔ غائبانہ طور پر میں ان کو پہلے ہی جان چکا تھا۔ اب ملاقات کے بعد اندازہ ہوا کہ وہ میری ذہنی تصویر سے کہیں زیادہ عظیم ہیں۔ اس کے بعد بار بار ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ انھوں نے کئی بار دہلی کا سفر کیا۔ میں خود جب بھی حیدر آباد جاتا تو انھیں کے یہاں ٹھہرتا۔ وہ بہت کم بولتے تھے مگر بہت زیادہ سمجھتے تھے۔ وہ بہت زیادہ حساس تھے مگر ان کی حساسیت پوری طرح ان کے شعوری فیصلہ کے تابع تھی۔ ۲۱ جولائی کی شام کو میں حیدر آباد پہنچا تو ان کے صاحبزادے حبیب بھائی صاحب مجھ سے لپٹ کر رونے لگے ۔ میری آنکھیں بھی آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔ حبیب بھائی کی زبان سے بار بار اس قسم کے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues