سفرِ آخرت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۷
الفاظ نکل رہے تھے ؛ آپ کا ایک اچھا پروانہ چلا گیا، آپ کا ایک اچھا عاشق چلا گیا۔ ۔۔ مولا نا اکبر الدین قامی نے بتایا کہ بابو بھائی نے مرکز کے لیے کبھی کسی چیز کا انکار نہیں کیا۔ اسلامی مرکز کے ہر خرچ کو اپنی جیب سے دینے کے لیے تیار رہتے تھے۔ بلکہ انھیں یہ شکایت رہتی تھی کہ آپ لوگ " خرچ " س کا کوئی منصوبہ بنا کر نہیں لاتے ۔ دو کتابیں رسچا راستہ اور دینی تعلیم تلگو زبان میں ترجمہ کر کے شائع کی گئیں تو اس کا پورا خرچ بابو بھائی نے ادا کیا۔ بابو بھائی حیدر آباد میں اسلامی مرکز کے مشن کو پھیلانے کے لیے مستقل طور پر بڑی بڑی رقمیں خرچ کرتے رہتے تھے۔ مگر مجھے یاد نہیں کہ ایک بار بھی انھوں نے مجھ سے کہا ہو کہ میں نے فلاں مد میں اتنی رقم دی ہے۔ مجھے جب بھی ان کے انفاق کے متعلق معلوم ہوا تو حیدر آباد کے دوسرے احباب کے ذریعہ معلوم ہوا۔ حیدر آباد کے ساتھیوں نے بتایا کہ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ کام کا نقشہ آپ لوگ بنائیے، پیسہ مجھ سے لیجئے ۔ وہ مختلف لوگوں کے نام اپنی طرف سے الرسالہ جاری کرتے رہتے تھے یا کتاب بھیجتے رہتے تھے مگر کبھی اپنی زبان سے انھوں نے یہ نہیں کہا کہ فلاں کی طرف سے رقم میں نے ادا کی ہے ۔
علم النفس کی اصطلاح کے مطابق وہ پورے معنی میں ایک (Balanced personality) متوازن شخصیت کے حامل تھے۔ حیدر آباد کے ایک تاجر شری اتم بھائی نے کہا کہ میرے ساتھ ان کا ۲۰ سال سے کاروباری تعلق تھا۔ مگر کبھی اختلاف یا شکایت کی نوبت نہیں آئی۔ ان کے کارخانہ کے ایک کارکن صالح عمودی نے کہا کہ ہم لوگوں کے لیے وہ باپ کے برابر تھے۔ ایسا آدمی مشکل سے ملے گا، بلکہ ملے گا ہی نہیں ۔
حبیب بھائی نے بتایا کہ وہ ہمیشہ معاملات کی اصل جڑ کو دیکھتے تھے۔ ایک بار کارخانہ میں آگ لگی تو سب سے پہلے انھوں نے سوچنا شروع کیا کہ آگ کیسے لگی۔ جب معلوم ہوا کہ یہ آگ بجلی سے لگی ہے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ تار پرانے ہو گئے ہیں تو انھوں نے پہلا کام یہ کیا کہ سارے تار بدلوا دیئے ۔ وہ بڑے نقصان کے مقابلہ میں چھوٹے نقصان کو زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ یوں کہ بڑا نقصان ایک بار پیش آتا ہے اور چھوٹا نقصان بار بار ہوتا ہے۔ “ ایک مرتبہ ان کے کارخانہ کے ورکروں نے اسٹرائک کر دی۔ کیس عدالت تک پہنچا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues