سفرِ آخرت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۸
بابو بھائی کو کامیابی ہوئی اور کئی ورکر ، یونین کے صدر اور سیکریٹری سمیت نکال دیے گئے ۔ کچھ دن کے بعد بابو بھائی کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ بے روز گار پھر رہے ہیں تو ان کو بلایا اور انھیں دوبارہ اپنے کارخانہ میں رکھ لیا۔ اس کے بعد وہ لوگ اتنا متاثر ہوئے کہ آئندہ وہ کارخانہ کے بہترین ورکر بن گئے ۔
بابو بھائی اپنے ظاہر کے اعتبار سے ایک تاجر تھے مگر وہ اپنے اندرونی احساس کے اعتبار سے متوکل علی اللہ تھے ۔ وہ اپنی اولاد کو ہمیشہ یہ تلقین کیا کرتے تھے کہ زیادہ کی حرص میں نہ پڑو ، بلکہ قناعت کا طریقہ اختیار کرو۔ ایک بار جب ان کے کارخانہ میں آگ لگ گئی تو انھوں نے اپنے آدمیوں سے کہا کہ فائر بریگیڈ کو ٹیلی فون کر دو اور خود تم لوگ جو کر سکتے ہو کرو۔ یہ کہہ کر مسجد میں نماز کے لیے چلے گیے اور پر سکون طور پر نماز ادا کر کے واپس آئے ۔
ایک صاحب نے بتایا کہ وہ حج کے سفر پر جارہے تھے۔ آخر میں انھیں محسوس ہوا کہ ان کے پاس پیسے کچھ کم ہیں۔ وہ بابو بھائی کے پاس آئے اور ان سے دو ہزار روپے قرض کے لیے کہا۔ بابو بھائی زبان سے کچھ نہیں بولے۔ کچھ دیر کے بعد وہ گھر کے اندر گیے اور روپیوں کی ایک گڈی لاکران کے ہاتھ میں دیدی۔ انھوں نے دیکھا تو وہ تین ہزار رو پے تھے۔ انھوں نے بابو بھائی سے کہا کہ میں نے تو صرف دو ہزار روپے کے لیے کہا تھا۔ بابو بھائی نے جواب دیا ؛ آپ لمبے سفر پر جارہے ہیں، رکھ لیجیے شاید ضرورت پیش آجائے ۔ بابو بھائی کے کچھ مسلمان کاریگروں نے رمضان کے آخری عشرہ میں روزہ چھوڑ دیا۔ بابو بھائی نے دریافت کیا تو انھوں نے کہا کہ روزہ اور ڈیوٹی دونوں ساتھ ساتھ نہیں ہوپاتی۔ بابو بھائی نے ان لوگوں کو دس دن کی با تنخواہ رخصت دیدی۔ انھوں نے کہا کہ روزہ مت چھوڑو، خواہ کام چھوٹ جائے ۔
انتقال سے صرف دو ماہ پہلے بابو بھائی مکہ گیے اور عمرہ کر کے واپس آئے ، اللہ تعالی کو یقیناً معلوم تھا کہ " ۲۱ جولائی " کو ان کی روح قبض کی جانے والی ہے۔ اس لیے اللہ تعالی نے چاہا کہ آخرت کے مقدس ترین مقام کی طرف لے جانے سے پہلے انھیں دنیا کے مقدس ترین مقام کی زیارت करा दे - انتقال کے دن ۲۱ جولائی کو وہ فجر کے وقت بالکل ٹھیک حالت میں تھے۔ دن نکلنے کے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues