سفرِ آخرت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۹
بعدِ اشراق کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو ایک رکعت کے بعد مزید نماز ادا نہ کر سکے۔ عین حالتِ نماز میں دل کا شدید دورہ پڑا۔ اس کے دو گھنٹہ بعد انتقال ہو گیا۔ کیسی عجیب تھی ان کی زندگی اور کیسی عجیب تھی ان کی موت۔
بابو بھائی مجھ سے عمر میں کم تھے اور صحت میں مجھ سے بہتر۔ اس لیے شعوری یا غیر شعوری طور پر میرا خیال یہ تھا کہ پہلے میری باری آئے گی اور اس کے بعد بابو بھائی کی۔ مگر موت کم عمر اور زیادہ عمر کا فرق نہیں جانتی۔ وہ تندرست اور کمزور کے درمیان تمیز نہیں کرتی۔ وہ خود اپنے فیصلے کے مطابق آتی ہے نہ کہ ہمارے اپنے اندازہ کے مطابق۔ اس طرح موت گویا ہر ایک کو یہ وارننگ دے رہی ہے کہ تیار رہو، ہر ایک جاگتے رہو۔ کیوں کہ کچھ نہیں معلوم کب کس کی باری آ جائے۔ آخری دن ان کے مطالعہ میں ایک کتاب تھی جو آخرت کے موضوع پر تھی۔ "بک مارک" کے طور پر اس کے جس صفحہ پر نشان رکھا ہوا تھا وہ صفحہ وہ تھا جس میں اصحابِ جنّت کا ذکر تھا ـــــــــ اللہ تعالیٰ انہیں جس آخری منزل کی طرف لے جا رہے تھے، یہ غالباً اس کی پیشگی خبر تھی جو انہیں اسی دنیا میں دی جا رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ آخرت میں مرحوم کے درجات بلند کرے۔ اور ان کو جنت کے اعلیٰ مقامات میں جگہ عطا فرمائے۔
موت کی خبر سننے کے بعد حیدر آباد سے چند بار ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد میں حیدر آباد جانے کے لیے باہر نکلا۔ اس وقت دہلی میں گرمی اتنی شدید تھی گویا آسمان سے آگ برس رہی ہو، گویا انسان کو آنے والی جہنم سے متعارف کرایا جا رہا ہو۔ محکمہ موسمیات کی اطلاع کے مطابق دہلی میں اس سال تقریباً سو سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ۔ کیوں کہ سو سال سے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جولائی کا مہینہ گزر جائے اور مانسونی بارش نہ ہو۔
ایک طرف موسم کی یہ شدت اور دوسری طرف بابو بھائی جیسے نادر انسان کی موت کی خبر۔ میرا یہ حال ہوا کہ میں نے سوچا، اگر آسمان سے آواز آئے کہ آخری نیک انسان دنیا سے اٹھا لیا گیا، اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ قیامت کا طوفان لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے، تو میں سمجھوں گا کہ وہ آخری نیک انسان شاید بابو بھائی تھے اور ان کے اٹھ جانے کے بعد اب دنیا کے اوپر خدا کے آخری فیصلہ کے ظہور میں کچھ دیر نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues