Al-Risala · September 1987 · page 30

ایمان

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۰

ایمان

ایمان کسی تقلیدی عقیدہ کا نام نہیں ۔ ایمان ایک زندہ شعور کا نام ہے ۔ ایمان کے لفظی معنی اقرار کے ہیں ۔ آدمی جب اللہ کو اس کی تمام صفات کمال کے ساتھ مانے اور اس کی تمام باتوں (وحی آخرت ، ملائکہ وغیرہ) پر کامل یقین کرکے ان کی تصدیق کرے ، وہ اللہ کے فیصلوں پر پوری طرح راضی اور مطمئن ہو جائے تو اسی کا نام ایمان ہے ۔

ان چیزوں کو ماننے کی ایک شکل یہ ہے کہ ان کو باپ دادا کی تقلید کے طور پر مان لیا جائے مگر اس قسم کا تقلیدی ایمان وہ ایمان نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہو۔ اس قسم کا ماننا بالکل بے روح ماننا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کے ہاتھ میں چھنگلیا۔ چھنگلیا بظاہر انگلی کی مانند ہوتی ہے۔ مگر آدمی کے ہاتھ میں چھنگلیا کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ اس کا کوئی فنکشن نہیں ہوتا۔ وہ ہاتھ کے ایک طرف بے کار لٹکی رہتی ہے۔ کچھ لوگ اس کو چھوڑے رکھتے ہیں اور کچھ لوگ اس کا آپریشن کرا دیتے ہیں ۔

یہی معاملہ تقلیدی ایمان کا ہے ۔ تقلیدی ایمان آدمی کی زندگی میں ایک بے اثر عقیدہ کے طور پر شامل رہتا ہے ۔ وہ اس کی زندگی کا حاکم نہیں ہوتا۔ آدمی کی زندگی میں اس کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اس کی زندگی الگ رہتی ہے اور اس کا ایمان الگ ۔

حقیقی ایمان ایک قسم کا شعوری سفر ہے ، وہ اس کا نام ہے کہ آدمی نہ دکھائی دینے والے خدا کو دیکھ لے ۔ وہ غیب میں چھپی ہوئی حقیقت کا مشاہدہ کرلے ۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ایمان ایک دریافت ہے ۔ ایمان ایک ڈسکوری ہے ، سب سے بڑی ڈسکوری ۔ جو چیز آدمی کی زندگی میں بطور ڈسکوری کے داخل ہو اس کا داخل ہونا محض ایک سادہ چیز کا داخل ہونا نہیں ہوتا۔ وہ ایک

‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues

Printed page