ایمان نیا انسان بناتا ہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۱
انقلاب ہوتا ہے ۔ وہ ایسا ہوتا ہے جیسے پرسکون زمین میں زلزلہ آجائے ۔ یا ٹھہرے ہوئے پانی میں طوفان برپا ہو جائے ۔
اس قسم کا ایمان جب کسی کو ملے تو وہ اس کی سوچ کو بدل دیتا ہے ۔ وہ اس کے مزاج کو بدل دیتا ہے ۔ وہ اس کی سرگرمیوں کے رخ کو پھیر کر ایک طرف سے دوسری طرف کر دیتا ہے۔ اس کے بعد آدمی کے اندر ایک نئی شخصیت ابھرتی ہے ۔ اس کے بعد اس کے اندر سے ایک نیا انسان ظہور کرتا ہے ۔ اس کے بعد آدمی وہ نہیں رہتا جو وہ پہلے تھا ۔ اپنے قول اور عمل دونوں کے اعتبار سے وہ ایک نیا انسان بن جاتا ہے ۔
اس کی وضاحت کے لیے ہم قرآن سے کچھ واقعاتی مثالیں پیش کریں گے ۔
ایمان نیا انسان بناتا ہے
ایک مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں مصر کے جادو گروں کی ہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا خدائی معجزہ سے بہت بڑا سانپ بن جاتا تھا ۔ مصر کے بادشاہ فرعون نے اس کے توڑ کے لیے اپنے ملک کے جادو گروں کو جمع کیا ۔ جادو گر جب آئے تو انہوں نے فرعون سے خوشامدانہ انداز میں کہا : اگر ہم موسیٰ پر فتح پالیں تو کیا ہمیں بادشاہ کی طرف سے کچھ انعام دیا جائے گا ۔ ( اِنَّ لَنَا لَاجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنِ الْغَالِبِينَ ) (الشعراء ٤٠) جادو گروں کا یہ حال اظهار حقیقت سے پہلے تھا ۔ اس کے بعد جب کھلے میدان میں ان کا مقابلہ حضرت موسیٰ سے ہوا اور جادو گروں نے دیکھا کہ ان کے سانپوں کو حضرت موسیٰ کے عصا نے نگل لیا ہے تو جادو گروں پر کھل گیا کہ حضرت موسیٰ خدا کے پیغمبر ہیں ۔ اتنا بڑا واقعہ خدا کے پیغمبر ہی کے ذریعہ ظاہر ہو سکتا ہے ۔ چنانچہ جادو گر اسی وقت خدا کے سامنے سجدے میں گر گئے ۔ وہ کہہ پڑے کہ آمنا برب العالمين (ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے)
جادو گروں کا حضرت موسیٰ کے دین کو قبول کر لینا فرعون کے لیے ذاتی شکست تھی ۔ اس نے بگڑ کر کہا کہ میں تم کو سخت ترین سزا دوں گا ۔ میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹواؤں گا ۔ اور پھر تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا ۔ جادو گروں نے یہ سن کر کہا : فاقضِ ما انت قاض اِنَّما تقضي هذِهِ الحياة الدنیا ( جو کچھ تجھے کرنا ہے کر ڈال ،
‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues