Al-Risala · September 1987 · page 32

ایمانِ معرفت ہے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۲

تو جو کچھ کر سکتا ہے موجودہ دنیا کی زندگی میں ہی کر سکتا ہے۔ (طہٰ ۷۲) اس مثال میں صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایمان کے بعد آدمی کے اندر کس طرح کا انقلاب پیدا ہوتا ہے ۔ کس طرح اس کے اندر سے ایک نیا انسان ظہور (Emerge) کرتا ہے ۔ وہی جادوگر جو چند لمحہ پہلے بادشاہ کی عظمت سے دبے ہوئے تھے ، اور اس کی خوشامد کر رہے تھے ، ایمانی انقلاب کے بعد ان کا یہ حال ہوا کہ وہ فرعون کی سخت ترین سزا کی دھمکی سن کر بھی متاثر نہیں ہوئے۔ باہر سے اگرچہ وہ پہلے ہی جیسے دکھائی دیتے تھے۔ مگر اب ان کے اندر ایک نیا انسان پیدا ہو چکا تھا۔ ایک ایسا انسان جو صرف خدا سے ڈرتا تھا ، ایک ایسا انسان جس کی نظر میں آخرت کے سوا ہر چیز بے وقعت ہو چکی تھی ۔

ایمانِ معرفت ہے

قرآن میں ایمان کو معرفت کہا گیا ہے (مما عرفوا من الحق ، المائدہ ۸۳) اسی طرح حدیث میں ایمان کو علم کہا گیا ہے ۔ ارشاد ہوا ہے کہ جس شخص نے جان لیا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ جنت میں داخل ہوگا (من علم انہ لا اله الا الله دخل الجنة ، مسلم) معرفت اور علم کسی چیز کو شعوری طور پر پانے کا نام ہے۔ جب آدمی کسی چیز کو شعوری طور پر پائے تو ایسا پانا محض بے اثر عقیدہ یا جامد نظریہ نہیں ہوتا۔ وہ آدمی کے پورے وجود میں سما جاتا ہے۔ وہ آدمی کی پوری شخصیت کو ہلا دیتا ہے ۔

اس قسم کے ایمان کا ایک واقعہ قرآن میں ساتویں پارہ کے شروع میں مذکور ہے ۔ نجران کے علاقہ سے دس عیسائیوں کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے مدینہ آیا۔ آپ نے ان کو قرآن کے کچھ حصے سنائے ۔ اس کو سن کر ان کے ذہن کی گرہیں کھل گئیں۔ انہوں نے خدا کو پہچان لیا۔ ان پر یہ منکشف ہوا کہ قرآن خدا کی کتاب ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ اس انکشافِ حقیقت کے بعد ان کا جو حال ہوا وہ قرآن میں ان لفظوں میں بیان ہوا ہے : اور جب انہوں نے سنا اس کلام کو جو رسول کی طرف اترا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہہ رہی ہیں ، اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ۔ وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ، ہم ایمان لائے ، تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے (و اذا سمعوا

‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues

Printed page