The Philosophy of Kalam
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۴۳
حملہ آور ہوا۔ اس کو دیکھ کر عطاء اللہ نے شور و غل کیا تو کتا بھاگ گیا۔ ایک بچہ کو معمولی زخم آيا ______ کتے کی کہانی شیر کی کہانی بن گئی ۔
قدیم زمانہ کے " بزرگوں " کے بارہ میں جو طرح طرح کے کراماتی قصے مشہور ہیں ان کی حقیقت بس یہی ہے۔ لوگوں کی عجوبہ پسندی نے ایک معمولی واقعہ کو عجیب و غریب کر شبہ بنا کر مشہور کر دیا۔ اس زمانے میں تحقیق کے ذرائع نہ تھے، اس لیے قصہ یک طرفہ طور پر پھیلتا رہا۔ یہاں تک کہ ایک مدت گزرنے کے بعد وہ مقدس بن گیا۔ اور یہ امکان ہی باقی نہ رہا کہ کوئی شخص اس کی تحقیق کرے اور کوئی ہو جو اس کی تحقیق پر دھیان دے ۔
۲۹ جون کی شام تک مسلسل مشغولیت رہی۔ البتہ ۳۰ جون کو صبح سے دوپہر تک خالی تھا ۔ چنانچہ ۳۰ جون کو شہر کے بہت سے لوگ ملنے کے لیے آگئے ۔ یہ شہر کے معزز اور تعلیم یافتہ لوگ تھے ۔ کئی گھنٹہ تک ان لوگوں سے گفتگو ہوتی رہی ۔ ان لوگوں نے چاہا کہ میں مزید چند دن بنگلور میں رکوں اور یہاں شہر میں خطابات کے پروگرام رکھے جائیں ۔ مگر میرے پاس رکنے کا موقع نہیں تھا۔ اس لیے میں معذرت کر کے ۳۰ جون کی شام کو دہلی واپس آگیا ۔
ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ میں اعراض پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ اگر ہم اعراض کی پالیسی پر چلیں تو فریق ثانی دلیر ہو جائے گا ۔ اور پہلے سے بھی زیادہ فساد کرے گا۔ میں نے کہا کہ اعراض کا حکم تو خود خدا نے دیا ہے ، پھر آپ کو اعراض خدا پر کرنا چاہیے نہ کہ میرے اوپر ۔
میں نے کہا کہ اعتراض کا مقصد فساد کو ختم کرنا ہے نہ کہ فساد کو بڑھانا ۔ ایک صحابی نے آخر عمر میں اپنے لڑکے کو نصیحت کی تو انھوں نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ : جو شخص نادان کے چھوٹے شر کو برداشت نہیں کرے گا اس کو نادان کے بڑے شر کو برداشت کرنا پڑے گا ۔ (من لا يرضى بالقليل مما ياتي به السفيه يرضى بالكثير) صحابی کی اس نصیحت کی روشنی میں غور کیجیے تو مسلمانوں کی سوچ اس کے مقابلہ میں بالکل الٹی ہو گئی ہے۔ صحابی تو یہ کہہ رہے ہیں کہ فسادی کی چھوٹی شرارت کو برداشت کر لو
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues