ایمان ایک اضافہ پذیر حقیقت ہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۳
آدمی کو لرزا دیتا ہے ۔ خدا کی ہیبت سے اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کی آواز پست ہو جاتی ہے ۔ اس کے چلتے ہوئے قدم رک جاتے ہیں ۔ اس کی زندگی ایسی پابند زندگی بن جاتی ہے جیسے خدا اس کے رات اور دن کا نگراں بن گیا ہو ۔
بعض مفسرین نے مومنین کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے کہ وہ غیب پر اس طرح یقین رکھتے ہیں جس طرح وہ مشاہدہ پر یقین رکھتے ہیں ۔ (يؤمنون بالغيب كما يؤمنون بالشهادة) تفسیر ابن کثیر جلد اول ، صفحہ ۴۱ ۔
گویا قیامت میں خدا کو دیکھ کر لوگوں کا جو حال ہوگا وہ حال مومن کا بغیر دیکھے ہوئے اسی دنیا میں ہو جاتا ہے ۔ غیر مومن قیامت میں خدا کو دیکھ کر ڈھ پڑیں گے ، مومن اسی آج کی دنیا میں خدا کے سامنے ڈھ پڑتا ہے ۔ قیامت میں خدا کے فرشتے لوگوں کو عدالت الہی کی ترازو میں کھڑا کریں گے مومن اسی دنیا میں اپنے آپ کو عدالت الہی کی ترازو میں کھڑا کر لیتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ غیر مومن پر قیامت میں گزرے گا وہ مومن پر اسی دنیا میں گزر جاتا ہے ۔ ۔ اسی زلزلہ خیز تجربہ کا نام ایمان ہے ۔
ایمان ایک اضافہ پذیر حقیقت ہے
سورہ ابراہیم میں ایمان اور مومن کو درخت سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ ارشاد ہو اہے کہ کلمہ ایمان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک ستھرا درخت ۔ اس کی جڑ زمین میں قائم ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں (الم تر كيف ضرب الله مثلا كلمة طيبة كشجرة طيبة اصلها ثابت وفرعها فى السماء)
درخت کی ایک انوکھی خصوصیت یہ ہے کہ وہ برابر بڑھتا رہتا ہے ۔ بیج سے اکھوا ، اکھوا سے تنہ ، تنہ سے شاخیں ، شاخوں سے پتیاں اور پھر پورا درخت ۔ یہ خاص صفت جو درخت کو حاصل ہے یہی مومن کی بھی صفت اس دنیا میں ہوتی ہے ۔ وہ ہر آن بڑھتا رہتا ہے ۔ وہ بیج سے شروع ہو کر بڑھتے بڑھتے سر سبز درخت بن جاتا ہے ۔
ایمان کس طرح بڑھتا ہے ۔ اس کے بڑھنے کی صورت بھی وہی ہوتی ہے جو درخت کے بڑھنے کی صورت ہے ۔ درخت زمین اور فضا سے معدنیات ، گیسیں اور پانی لے کر اپنے وجود کو بڑھاتا
‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues