Al-Risala · September 1987 · page 34

ایمان ہر موقع پر اپنا پھل دیتا ہے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۴

رہتا ہے ۔ حتیٰ کہ فضا کی مضر گیس ( کاربن ) بھی اس کے خدائی کارخانہ میں داخل ہو کر اس کے وجود کا جز بن جاتی ہے اور وہ مفید گیس ( آکسیجن ) کی صورت میں باہر نکلتی ہے ۔ یہی مومن کا حال اس دنیا میں ہوتا ہے ۔

مومن اپنے ماحول میں پیش آنے والے واقعہ اور ہر مشاہدہ کو اپنے لیے غذا بناتا رہتا ہے ۔ اس پر مصیبت پڑتی ہے تو وہ فریاد کرنے کے بجائے صبر کرتا ہے ۔ گویا مصیبت اس کے ایمانی کار خانہ میں داخل ہو کر مثبت نفسیات کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔ اسی طرح مومن کو کامیابی حاصل ہوتی ہے تو وہ فخر نہیں کرتا بلکہ اس کو خدا کی طرف سے سمجھ کر خدا کا شکر ادا کرتا ہے ۔ گویا کہ جو چیز عام انسانوں کو خدا سے غفلت اور سرکشی کی طرف لے جاتی ہے وہ مومن کو خدا سے قریب کرنے کا سبب بن جاتی ہے ۔ حتیٰ کہ مومن کو اگر کسی سے شکایت ہوتی ہے تو وہ اس کو معاف کر دیتا ہے ۔ گویا جو واقعہ عام انسان کو انتقام کی آگ میں جلانے کا باعث بنتا ہے ۔ وہ مومن کو خدا کی رحمت کے سائے میں پہنچانے کا سبب بن جاتا ہے ۔

اسی طرح مومن جب زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی چیزوں کو دیکھتا ہے تو اس کے ذہنی خانہ میں داخل ہو کر یہ سب چیزیں خدا کی نشانیاں بن جاتی ہیں وہ مخلوقات کے آئینہ میں خالق کو دیکھ لیتا ہے ، گویا جو مشاہدہ عام انسان کے لیے صرف مادی فائدہ یا Exploitation کا ذہن پیدا کرتا ہے وہ مومن کے ایمانی کارخانہ میں خدا کی یاد کی صورت میں ڈھل جاتا ہے ۔ اسی طرح ہر معاملہ اور ہر مشاہدہ مومن کو ربانی غذا دیتا رہتا ہے اور اس کے ایمان ویقین میں برابر اضافہ کرتا رہتا ہے ۔

ایمان ہر موقع پر اپنا پھل دیتا ہے

سورہ ابراہیم کی مذکورہ آیت میں ایمان کو ستھرے درخت سے مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ ہر موسم میں اپنا پھل دیتا ہے ۔ ( توتی اكلھاكل حين باذن ربھا ) پھل دار درخت کا یہ قاعدہ ہے کہ جب اس کا موسم آتا ہے تو اس کی شاخوں پر پھل نکلنے لگتے ہیں ۔ مومن کا حال بھی اخلاق اور عمل کے دائرہ میں یہی ہوتا ہے ۔ مومن کا زندہ شعور ، اس کا خدا کو حاضر و ناظر جاننا ، اس کا یہ یقین کہ مرنے کے بعد خدا کی عدالت میں کھڑا ہونا ہے ۔ یہ چیزیں

‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues

Printed page