Al-Risala · September 1987 · page 35

ایمان ایک فکری انقلاب

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۵

مومن کو اتنا احساس اور اتنا ذمہ دار بنا دیتی ہیں کہ وہ ہر موقع پر وہی کرتا ہے جو اس کے ایمان کا تقاضا ہو۔ جب بھی کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو اس سے وہی اخلاق اور کردار ظاہر ہوتا ہے جو خداوند ذوالجلال پر زندہ یقین رکھنے والے آدمی سے ظاہر ہونا چاہیے ۔ جب اس کے سامنے کوئی سچائی ظاہر ہوتی ہے تو وہ کسی تحفظ کے بغیر کھلے دل سے اس کا اقرار کر لیتا ہے۔ جب خدا کی عبادت کی پکار بلند ہوتی ہے تو وہ ہر دوسرے کام کو چھوڑ کر خدا کے آگے سجدے میں گر پڑتا ہے۔ جب اس کے مال میں سے خدا کا حصہ مانگا جاتا ہے تو وہ بلا تاخیر اس کو ادا کر دیتا ہے۔ جب کوئی حق دار اس سے اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ پورے انصاف کے ساتھ اس کو اس کا حق پہنچا دیتا ہے ۔ جب وہ کسی سے ایک بات کا وعدہ کرتا ہے تو اس کو پورا کیے بغیر اس کو چین نہیں آتا ۔

اس طرح مومن کا ایمان ہر موقع پر ایک ربانی لوزین کر ظاہر ہوتا ہے ۔ وہ ہر معاملہ میں ربانی کردار کی صورت میں نمایاں ہوتا ہے ۔ وہ ہر موقع پر وہی کرتا ہے جو اس کو کرنا چاہیے ۔ اور وہ نہیں کرتا جو اس کو نہیں کرنا چاہیے ۔

ایمان ایک فکری انقلاب

ایمان کوئی جامد عقیدہ نہیں ، ایمان ایک متحرک فکری سیلاب ہے ۔ ایمان ایک ربانی چشمہ ہے جو کسی بندہ خدا کے سینہ میں بہہ پڑتا ہے ۔ ایمان یہ ہے کہ ایمان آدمی کو اس طرح ملے کہ وہی اس اس کی زندگی بن جائے ۔ وہ ایسی روشنی ہو جس سے اس کا پورا وجود جگمگا اٹھے ۔ وہ ایسا رنگ ہو جس میں آدمی کے سارے معاملات رنگے ہوئے نظر آئیں ۔

ایمان خدا کی موجودگی کو پا لینے کا نام ہے ۔ ایمان یہ ہے کہ آدمی خدا کی عظمتوں میں گم ہو جائے ، وہ احساس خداوندی میں نہا اٹھے ۔ ایمان آدمی کے جذبات کا حمد خدا وندی میں ڈھل جانا ہے ۔ یہ دنیا میں رہتے ہوئے خدا تعالیٰ تک پہنچ جانا ہے ۔

ایمان ایک بھونچال ہے جو خدا کی معرفت سے آدمی کے اندر اہل پڑتا ہے ۔ ایمان ایک دریا ہے جو خدا کے فیضان کو پا کر آدمی کے دل و دماغ میں جاری ہو جاتا ہے ۔ ایمان خدا کو پا لینا ہے ، اور خدا کو پا نا سب کچھ کو پا لینا ہے ۔ پھر کیا چیز ہے جو اس کے بعد آدمی کو نہ ملے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues

Printed page