ہر حال میں انصاف
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۳
کرنے کے لیے حضرت خالد کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ اس نے یہ تاثر دینا چاہا کہ حضرت خالد دینی اعتبار سے کمزور ہیں۔ ان کا اسلام زیادہ قابلِ اعتماد نہیں ۔ یہ سن کر حضرت عبد الرحمن بن عوف سنجیدہ ہو گئے ۔ انہوں نے مذکورہ آدمی سے کہا : مہ فان ما بیننا لہم مبلغ دینا ۔ (دور ہو ، ہمارے اور ان کے درمیان جو بات ہے وہ ہم دونوں کے دین تک نہیں پہنچے گی) یعنی ہمارے اور ان کے درمیان دنیا کے معاملہ میں جو شکایت ہے اس کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم ایک دوسرے کے اسلام کو ناپنے لگیں ۔ اس کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کو دینی حیثیت سے برا کہنے لگیں ۔
اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کا مزاج یہ تھا کہ اگر کسی شخص سے ایک معاملے میں شکایت پیدا ہو جائے تو اس کو بس اسی معاملے تک محدود رکھا جائے ۔ ایک معاملے کی شکایت کو لے کر آدمی کو ہر معاملہ میں کنڈم نہ کیا جائے ۔ وہ قرآن کی اس ہدایت کے سختی سے پابند تھے کہ : ولا یجرمنکم شنآن قوم علی الا تعتد لوا اعدلوا هو اقرب للتقوی ( المائدہ : ۸) یعنی کسی کی دشمنی تمہیں یہاں تک نہ لے جائے کہ تم اس کے ساتھ انصاف نہ کرو ۔ بلکہ دشمن کے ساتھ بھی انصاف کرو ۔ یہی راستہ تقویٰ سے قریب ہے ۔
یہ ایمانی طریقہ جو صحابہ کرام کا تھا ، یہی عام مسلمانوں کو بھی اختیار کرنا ہے ۔ خلاصہ اس گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے مطابق ایمان کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک مثلِ یہود ایمان اور دوسرا مثلِ صحابہ ایمان ۔ مثلِ یہود ایمان دوسرے لفظوں میں نسلی اور تقلیدی ایمان ہے ۔ وہ جامد پتھر کی مانند ہے جس میں کوئی جان نہیں ہوتی ۔ اس سے کردار اور عمل کی شاخیں نہیں پھوٹتیں ۔ اس سے روحانی ترقی کے چشمے جاری نہیں ہوتے ۔ ایسا ایمان آدمی کی دل کی گہرائیوں میں داخل نہیں ہوتا ۔ ایسا ایمان الگ رہتا ہے اور آدمی کی زندگی الگ ۔ اس کے برعکس مثلِ صحابہ ایمان ایک معرفت ہے ۔ وہ ایک ڈسکوری ہے ۔ وہ ایک فکری انقلاب ہے ۔ جب کسی آدمی کے اندر یہ ایمان پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کے پورے وجود کو ہلا دیتا ہے ۔ اس کی ہستی خدا کے نور میں نہا اٹھتی ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے سوچنے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues