ہر حال میں انصاف
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۵
خبر نامہ اسلامی مرکز ۳۴۔
موجودہ حالات کے بارہ میں الرسالہ کا نقطہ نظر خدا کے فضل سے عام ہورہا ہے۔ روزانہ اس کی نئی مثالیں سامنے آرہی ہیں۔ مثال کے طور پر انگریزی روزنامہ ٹیلی گراف (۱۰ جون ۱۹۸۷) نے صدر اسلامی مرکز کی ایک تحریر نمایاں طور پر شائع کی ہے۔ اور اس کا عنوان ان لفظوں میں قائم کیا ہے: Cure for communalism اسی طرح ہفت روزہ نئی دنیا (۲۹ جون ۱۹۸۷) کے ایڈیٹر نے مولانا وحید الدین خاں کی ایک تحریر مکمل طور پر نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ تحریر بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس تحریر میں کہا گیا تھا کہ موجودہ مسائل کا حل صرف یہ ہے کہ مسلمان موجودہ نزاع کو یک طرفہ طور پر ختم کردیں۔ ایڈیٹر نئی دنیا نے اس نقطہ نظر کی تائید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "جو قائدین مسلمانوں کی لاشوں پر اپنی سیاست چمکانا چاہتے ہیں وہ اس حکمت عملی کی مخالفت کرتے ہیں۔ اور اسے ناقابل عمل اور بزدلانہ قرار دیتے ہیں۔ موجودہ غم وغصہ کے ماحول میں جب کہ مسلمانوں کا دل غم سے چور ہو چکا ہے، جذباتی اور ٹکراؤ کی باتیں اچھی لگتی ہیں۔ ان حالات میں عوام کا ایک طبقہ گفتار کے غازی قائدین کو سر آنکھوں پر بٹھا تاہے ۔ اور دور اندیشی سے مستقبل کی تعمیر کی صلاح دینے والوں کو گالیوں سے نوازتا ہے۔ لیکن تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ آخر کار عوام کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ کون انھیں تباہی اور بربادی کے دلدل میں لے جا رہا ہے اور کون ہوش اور دانش مندی سے پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے دلدل سے بچ کر گزرنے کی راہ دکھا رہا ہے"۔
الرسالہ انگریزی کے ذریعہ ہماری آواز تیزی سے ملک کے اعلیٰ طبقہ تک پہنچ رہی ہے۔ مثلاً ہم کو انگریزی روزنامہ ناردرن انڈیا پتریکا کے مینیجنگ ڈائرکٹر مسٹر ٹمل کاتی گھوش کا خط (۲۷ جون۱۹۸۷) الٰہ آباد سے موصول ہوا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ انھیں الرسالہ انگریزی کا جون ۱۹۸۷ کا اشو ملا۔ اس کو دیکھ کر انھوں نے اس کو بہت پسند کیا ہے اور چاہتے ہیں کہ اس کو مستقل طور پر اپنے مطالعہ میں رکھیں۔ اس لیے انھیں ہر ماہ انگریزی الرسالہ پابندی کے ساتھ روانہ کیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues