That almost always backfires.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۲
ر لینڈ نے ۵۰ ڈالر ماہانہ کی سروس کھودی ۔ وہ ایسے وقت میں بے روزگار ہوگئی جب کہ بچی کی پیدائش کے نتیجہ میں اس کے اخراجات کافی بڑھ چکے تھے ۔ اس نے امریکہ کی فیڈرل کورٹ میں اپیل کی کہ کمپنی نے اس کو ملازمت سے برخوست کرکے اس کے ساتھ امتیاز (Discrimination) کا برتاؤ کیا ہے ۔ مقدمہ چلتا رہا ۔ گارلینڈ کے وکیل اور کمپنی کے وکیل نے ایک دوسرے کے خلاف دلائل پیش کیے ۔ یہاں تک کہ پانچ سال بعد جنوری ، ۱۹۸ میں امریکی سپریم کورٹ کے جسٹس تھر گڈ مارشل (Thurgood Marshall) نے فیصلہ دیا کہ خاتون کا رکن اگر حاملہ ہو جائے تو جس ادارہ میں وہ کام کر رہی ہے اس کو چاہیے کہ وہ اس کو چار مہینہ کی باضابطہ رخصت دے۔
اس فیصلہ نے امریکہ میں زبر دست بحث چھیڑ دی ہے ۔ ایک طرف آزادی نسواں کی حامی خواتین خوش ہیں کہ بچے کی پیدائش اور نگہداشت کے مسئلہ میں انھیں قانون کی حمایت حاصل ہو گئی۔ دوسری طرف امریکہ کے سنجیدہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ فیصلہ خواتین کے لیے مضر ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ اس قسم کا تحفظ صرف خواتین کے حق میں امتیاز کو بڑھانے والا ثابت ہوتا ہے۔ یہ تدبیر ایسی ہے جو ہمیشہ الٹا نتیجہ ظاہر کرتی ہے :
That almost always backfires.
لاس اینجلس کی مرچنٹس اینڈ مینو فیکچررس ایسوسی ایشن کے صدر مسٹر ڈون بٹلر (Don Butler) نے کہا کہ یہ فیصلہ ایک مہلک فیصلہ ہے۔ اگر کمپنیوں کو اس طرح حاملہ خواتین کو چار مہینہ کی باضابطہ رخصت دینی پڑی تو وہ دیوالیہ پن (Bankruptcy) کا شکار ہو جائیں گی۔ امریکی چیمبر آف کامرس کے اٹارنی لیمپ (Attorney Lamp) نے کہا کہ اس طرح عورت کے خلاف امتیاز اور بڑھ جائے گا گا ۔ اس لیے کہ بہت سی کمپنیاں یہ نہ چاہیں گی کہ وہ بچہ پیدا کرنے کی عمر میں عورتوں کو اپنے یہاں ملازم رکھیں :
Discrimination against women might increase. Many companies just won't hire women in their childbearing years (p. 21). گار لینڈ کے مذکورہ معاملہ کی حمایت میں ایک مشہور خاتون لیڈر بیٹی فریڈان (Betty Friedan)
‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues