دل سے دل تک
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۴
دل سے دل تک
کسی کا قول ہے کہ بات جب دل سے نکلتی ہے تو وہ دل تک پہنچتی ہے ۔ اور جب بات صرف زبان سے نکلتی ہے تو وہ کان سے آگے نہیں بڑھتی (ان الکلام اذا خرج من القلب دخل القلب واذا خرج من اللسان لا يغادر الا الآذان)
یہ ایک حقیقت ہے کہ کلام دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ وقتی طور پر یا مصلحت کے طور پر جو بھی آدمی کے ذہن میں آئے وہ اس کو بولنے لگے۔ یہ زبان سے نکلنے والا کلام ہے۔ یہ بولنے والے کی اوپری سطح سے نکلتا ہے۔ اس لیے وہ سننے والے کی بھی اوپری سطح کو چھوتا ہوا گزر جاتا ہے۔ کلام کی دوسری قسم وہ ہے جو سنجیدہ ذہن سے نکلتی ہے۔ آدمی حقیقی طور پر ایک چیز کو پاتا ہے اور حقیقی احساس کے تحت اس کو بیان کرتا ہے۔ ایسا کلام بولنے والے کے دل کی گہرائی سے نکلتا ہے اس لیے وہ سننے والے کی دل کی گہرائی تک پہنچ جاتا ہے۔
دل سے نکلنے والا کلام دراصل فطرت سے نکلنے والا کلام ہوتا ہے۔ فطرت مختلف انسانوں کی الگ الگ نہیں ہوتی۔ فطرت تمام انسانوں کی ایک ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کا کلام جب کسی انسان سے ظاہر ہوتا ہے تو وہ سننے والے کو اپنے دل کی آواز معلوم ہوتا ہے۔ گہری فطرت کی سطح پر ہونے والا ہر تجربہ مشترک انسانی تجربہ ہے۔ آپ جب بھی فطرت میں ڈوب کر بولیں تو سمجھ لیجیے کہ آپ صرف اپنی ترجمانی نہیں کر رہے ہیں بلکہ دوسرے انسانوں کی بھی ترجمانی کر رہے ہیں۔ آپ وسیع تر معنوں میں قلوب انسانی کے اندر جھانک کر بول رہے ہیں۔ آپ صرف اپنے نمائندہ نہیں ہیں بلکہ سب کے نمائندہ ہیں۔ ایسا کلام جب کسی بندے کی زبان سے نکلے گا تو نا ممکن ہے کہ وہ دوسرے انسانوں پر اپنا اثر نہ ڈالے۔
کوئی شخص خود اپنے احساس کو سنے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح کوئی شخص فطرت کے ساز پر چھیڑے جانے والے نغمہ کی بازگشت کو اپنے سینے میں محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ کوئی شخص خود اپنے آپ سے کیوں کر بے تعلق ہو سکتا ہے۔ کوئی شخص ایسی آواز کو کیسے نظر انداز کر سکتا ہے جو خود اس کی اپنی آواز ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues