آزمودہ حل
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۳
آزمودہ حل
ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات کو ہمارے لیڈر "مسلم کش فسادات" کہنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ بعض ہندوؤں کی بعض مسلمانوں کے ساتھ جنگ نہیں ہے بلکہ یہ یک طرفہ طور پر مسلمانوں کی نسل کشی ہے۔ مگر اس واقعہ کا سب سے زیادہ حیرت ناک پہلو یہ ہے کہ اس عمومی مسلم کشی سے مسلم لیڈر صاحبان ہمیشہ مکمل طور پر محفوظ رہتے ہیں، خواہ وہ بے ریش لیڈر ہوں یا باریش لیڈر۔ ایک مسلم اخبار نے بالکل درست طور پر لکھا ہے :
" اس (فساد) میں قصور عام لوگوں سے زیادہ مسلمانوں کے آرام پسند لیڈروں کا ہے جو مسلمانوں سے قربانی و ایثار کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن ان میں قربانی دینے کا کوئی حوصلہ نہیں ہے۔ چالیس برسوں کے دوران مسلمانوں کو جو قربانی دینی پڑی یا زبردستی ان سے جو قربانی وصول کی گئی اس کی مثال شاید ہی دنیا کی دوسری کوئی ملت پیش کر سکے۔ لیکن ان چالیس برسوں میں ایک بھی مسلمان لیڈر کو خراش تک نہیں آئی ۔ " نقیب (پٹنہ) ۲۰ جولائی ۱۹۷۸ء مسلم لیڈروں کے اپنے بیان کے مطابق اس ملک میں تقریباً نصف صدی سے مسلم کشی اور مسلمانوں کے قتل عام کے واقعات ہو رہے ہیں۔ مگر بے ریش اور باریش مسلم لیڈروں میں سے کوئی ایک شخص بھی نہیں جو ہلاکت اور بربادی کے اس عمومی طوفان کا شکار ہوا ہو۔ اس قتل عام میں فرزندانِ ملت تو مسلسل ذبح ہورہے ہیں، مگر فرزندانِ قیادت پوری طرح محفوظ ہیں ۔
اس تجربہ کی روشنی میں میں مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس پورے معاملہ پر از سر نو غور کریں۔ کیوں کہ اس تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر ہلاکت خیز فسادات کے باوجود یہاں ایک مجرب نسخہ ان کے لیے موجود ہے۔ وہ خود بھی وہی کریں جو ان کے لیڈر نصف صدی سے کر رہے ہیں۔ مسلمان لیڈر جس تدبیر کے ذریعہ اپنے آپ کو مسلم کش فسادات کی زد سے بچاتے ہوئے ہیں اسی تدبیر کے ذریعہ عام مسلمان بھی اس وبا سے اپنے آپ کو بچائیں ۔ اس معاملہ میں اپنے بچاؤ کا اس سے زیادہ کارگر نسخہ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔
اب دیکھیے کہ مسلمان لیڈر صاحبان کس طرح اپنے آپ کو مسلم کش فسادات کی زد سے بچائے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues