آزمودہ حل
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۴
ہوتے ہیں۔ ایک لفظ میں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام لیڈر صاحبان اپنی ذات کے معاملہ میں عین اسی طریقے پر عمل کرتے ہیں جس کی تلقین الرسالہ میں مسلسل طور پر کی جارہی ہے۔ البتہ جب وہ دوسروں کے سامنے آتے ہیں تو وہ اس کے برعکس تقریر شروع کر دیتے ہیں۔ اسٹیج پر وہ الرسالہ کے مخالف ہیں، مگر اپنی ذاتی زندگی کے معاملہ میں وہ الرسالہ کی بات کو مبالغہ آمیز حد تک پکڑتے ہوئے ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے زمانہ کے یہودی پیشواؤں کے بارے میں اپنے شاگردوں سے کہا تھا : فقیہہ اور فریسی موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں۔ پس جو کچھ وہ تمہیں بتائیں وہ سب کرو اور مانو لیکن ان کے سے کام نہ کرو۔ کیوں کہ وہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں ۔ وہ ایسے بھاری بوجھ جن کو اٹھانا مشکل ہے باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر رکھتے ہیں مگر آپ ان کو اپنی انگلی سے بھی ہلانا نہیں چاہتے۔ (متی ۲۳: ۱- ۳)
موجودہ حالات میں ہمارے لیڈر اور رہنما جو کچھ کر رہے ہیں وہ برعکس طور پر ہمارے لیے مطلوب ہوگیا ہے۔ ہندو مسلم مسئلہ کے ضمن میں یہ لیڈر عام مسلمانوں کو ٹکراؤ کا سبق دیتے ہیں، مگر خود اپنی ذات اور اپنی اولاد کے معاملے میں وہ ہم آہنگی کے طریقہ پر عمل کر رہے ہیں۔ اس لیے میں حضرت مسیح کے الفاظ کو بدل کر مسلمانوں سے کہوں گا کہ تمہارے لیڈر اس معاملہ میں جو باتیں کہتے ہیں ان کو نہ سنو، البتہ وہ خود جس طریقہ کو اپنائے ہوئے ہیں اسی کو تم بھی اپنا لو۔ اور پھر تم بھی اسی طرح محفوظ رہوگے جس طرح تمہارے تمام لیڈر محفوظ ہیں ۔
چند مثالیں
ایک مسلمان لیڈر سے راقم الحروف کی گفتگو ہوئی انھوں نے کہا کہ آپ الرسالہ کے ذریعہ مسلمانوں کو بزدلی کا سبق دے رہے ہیں۔ حالاں کہ پیغمبر اسلام کا حال یہ تھا کہ انھوں نے اسلام دشمنوں سے جنگ کی ۔ انھوں نے ہمیشہ اسلام دشمنوں کے خلاف تلوار اٹھائی۔ یہ گفتگو انگریزی میں ہورہی تھی۔ لیڈر کے اصل الفاظ یہ تھے :
He always took up arms against the enemies of Islam. میں نے کہا کہ آج کل ساری دنیا میں جہاد کے میدان کھلے ہوئے ہیں۔ جگہ جگہ مسلمانوں اور ”دشمنانِ اسلام“ کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ آپ ہتھیار خریدیئے اور کسی جگہ کا انتخاب کر کے میدانِ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues