Al-Risala · November 1987 · page 20

زمانہ با تو نہ سازد تو باز مانہ ستیز

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۰

نے ذکر کیا، مگر آپ خود یہاں کے نظام کو جو کچھ دے رہے ہیں، اس کا ذکر کرنا آپ بھول گئے۔ میں نے کہا کہ آپ جس ڈھنگ سے عرب میں رہتے ہیں، اگر ہندوستان کے مسلمان اسی ڈھنگ سے ہندوستان میں رہیں تو وہ ہندوستان میں بھی اسی طرح با عزت طور پر رہ سکتے ہیں جس طرح آپ عرب میں رہ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ کیسے ۔ میں نے کہا کہ عرب میں آپ کے پرسکون طور پر رہنے کا راز صرف ایک ہے۔ اور وہ یہاں کے نظام کے ساتھ کامل توافق (Adjustment) ہے۔ اگر ہندوستان کے مسلمان اپنے ملک کے نظام سے اسی طرح توافق اور ہم آہنگی کے ساتھ رہیں تو ایک دن میں سارا جھگڑا ختم ہو جائے۔

میں نے کہا کہ ساری عرب دنیا میں وطنی کے مقابلہ میں خارجیہ جی کو نمبر ۲ کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ مگر آپ اس کو برداشت کرتے ہیں۔ یہاں ایک ہندوستانی کے مقابلہ میں ایک امریکی کو کئی گنا زیادہ تنخواہ ملتی ہے مگر آپ اس امتیاز کو گوارا کیے ہوئے ہیں۔ یہاں آپ کو یہ اجازت نہیں کہ مسجد میں یا مسجد کے باہر لاؤڈ اسپیکر لگا کر تقریر کریں۔ یہاں آپ نہ کوئی آزاد اخبار نکال سکتے اور نہ کوئی آزاد رسالہ چھاپ سکتے ہیں مگر اس کے خلاف آپ جیل بھرنے کی مہم نہیں چلاتے ۔ یہاں واضح طور پر بہت سے غیر شرعی امور پر عمل ہو رہا ہے۔ مگر ان کے بارہ میں آپ بالکل خاموش ہیں۔ آپ حضرات اس قسم کی چیزوں کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کرتے اور نہ ان مسائل پر کوئی جلوس نکالتے۔

میں نے کہا کہ عرب میں آپ کو جو پرسکون زندگی حاصل ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہاں کے نظام سے ہم آہنگی اختیار کر کے آپ نے اس کی ضروری قیمت ادا کر دی ہے۔ اگر ہندوستان کے مسلمان یہ قیمت ادا کرنے پر راضی ہو جائیں تو وہاں بھی وہ عزت اور کامیابی کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔

مسلمانوں میں سے جو لوگ عرب ملکوں میں جاتے ہیں، حتی کہ ان کے اکابر جو کانفرنسوں میں شرکت کرنے کے لیے عرب کے سفر کرتے رہتے ہیں۔ ان کی زندگیوں میں عام ہندوستانی مسلمانوں کے لیے زبردست سبق ہے۔ یہ مسلمان اور یہ اکابر عرب میں جا کر جس طرح وہاں کے نظام سے موافقت کر کے رہتے ہیں، اسی طرح ہندوستانی مسلمان بھی ہندوستان کو اپنا ملک سمجھیں اور یہاں کے حالات

‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues

Printed page