Al-Risala · November 1987 · page 21

زمانہ با تو نہ سازد تو باز مانہ ستیز

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۱

سے موافقت کر کے زندگی گزاریں۔ اس کے بعد انشاء اللہ ان کے لیے یہاں کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔ ایک لیڈر صاحب ہیں۔ لیڈر ہوتے کے ساتھ وہ ایک اسلامی ادارہ بھی چلاتے ہیں۔ اور اس کے ذمہ دار اعلیٰ ہیں۔ یہ لیڈر صاحب اپنی پرجوش تقریروں میں اکثر اقبال کا یہ شعر پڑھتے ہیں :

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں وہ جب تقریر کرتے ہیں تو ہمیشہ "اینٹی گورنمنٹ" لہجہ میں بات کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں وزیروں اور گورنروں کی پروا نہیں کرتا۔ میں صرف خدا کی پروا کرتا ہوں اور اسی سے ڈرتا ہوں۔ حکمرانوں سے استغناء برتنا اور انھیں نظر انداز کرنا ان کا خاص کمال سمجھا جاتا ہے۔ ان کی اس قسم کی تقریروں کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے حلقہ کے لوگوں میں عام طور پر یہ ذہن بن گیا ہے کہ جو شخص حکمرانوں سے قریب ہو یا ان کے حق میں بھلائی کا کلمہ کہے تو وہ یقینی طور پر ابن الوقت اور موقع پرست ہے۔ مذکورہ لیڈر صاحب کا یہ انداز ہے جس کو وہ اپنی تقریروں میں برتتے ہیں۔ مگر خود اپنے عملی معاملات میں ان کا طریقہ سراسر اس سے مختلف ہے۔ مثلاً ان کے ادارہ اور شاہراہ عام کے درمیان کوئی سڑک نہیں تھی ۔ وہ چاہتے تھے کہ یہاں ایک ایسی سڑک بن جائے جو ادارہ کو شاہراہ عام سے جوڑ دے تاکہ سفر آسان ہو سکے۔

یہ بظاہر یہ ایک مشکل کام تھا، مگر ان کے زرخیز ذہن نے اس کا نہایت خوبصورت حل دریافت کر لیا۔ انھوں نے اپنے ادارہ کے احاطہ میں ایک " بین اقوامی " کانفرنس کی جس میں عرب کے کئی شیوخ بھی شریک ہوئے ۔ اب لیڈر صاحب اور ان کے ساتھیوں نے ایک باضابطہ دعوت نامہ تیار کیا جس میں ریاست کے ہند وچیف منسٹر کو "خصوصی مہمان" کے طور پر کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ چیف منسٹر صاحب نے بخوشی یہ دعوت قبول کر لی۔ وہ جب اپنی سرکاری کار سے کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے تو انھیں غیر معمولی اعزاز دیا گیا۔ مگر انھیں یہ دیکھ کر شرم آئی کہ بیرونی ملکوں کے مہمان ان کے شہر میں آئیں اور ان کو اجتماع گاہ تک پہنچانے کے لیے معقول راستہ موجود نہ ہو۔ لیڈر صاحب کے ساتھیوں نے چیف منسٹر کے اس احساس سے پورا فائدہ اٹھایا۔ اس کے بعد یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ جلد ہی وہاں ادارہ اور شاہراہ عام

‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues

Printed page