Al-Risala · November 1987 · page 22

زمانہ با تو نہ سازد تو باز مانہ ستیز

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۲

کے درمیان ایک عمدہ سڑک تعمیر ہو چکی تھی ۔

اب میں مسلمانوں سے کہوں گا کہ آپ کے لیڈر اگر حکمرانوں کے خلاف تقریر کریں تو آپ ہرگز ایسی تقریروں کو سنجیدہ طور پر نہ لیں۔ آپ سرکاری افسروں اور حکام سے اچھے تعلقات رکھیں اور اس کے بعد آپ کے سب کام اسی طرح بخوبی طور پر انجام پا جائیں گے جس طرح لیڈروں کے اپنے کام بخوبی طور پر انجام پا رہے ہیں ۔

-۸ شریمتی سبھدرا جوشی ( پیدائش ۱۹۱۹) ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں ۔ انھوں نے کرسین کالج لاہور سے پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا اور پھر ملکی سیاست میں شامل ہو گئیں ۔ وہ مہاتما گاندھی کی ساتھیوں میں سے ہیں ۔

سبھدرا جوشی نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ ۱۹۴۷ کے فسادات میں ہم دہلی کے مسلم محلوں میں کام کر رہے تھے ۔ دلی کا کانگریس پر ہمارا قبضہ تھا ۔ گاندھی جی آئے ۔ انھوں نے ہم سے پوچھا کہ کتنے مسلمان مارے گئے ۔ ہم نے بتایا : دس ہزار سے زیادہ مارے گئے ہیں۔ وہ بہت برہم ہوئے اور کہا کہ تم نے بچانے کی کوشش کیوں نہیں کی ۔ ہم نے کہا ، ہم تو برابر کوشش کر رہے ہیں ، مگر حالات بہت زیادہ خراب ہیں ۔ انھوں نے غصہ میں پوچھا ، ان دس ہزار میں تمہارے کانگریسی ورکر کتنے مارے گئے ۔ ہم نے جواب دیا ایک بھی نہیں ۔ اس پر وہ بولے " پھر میں کیسے مان لوں کہ تم نے بچانے کی کوشش کی ہوگی " ( ماہنامہ شبستاں ، دہلی ، جون ۱۹۷۲) گاندھی جی کے اس تبصرہ کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ لیڈر لوگوں نے فساد زدہ عوام کو بچانے کا کام ہی نہیں کیا ، وہ بس دور دور سے اس کا کریڈٹ لیتے رہے ۔ اگر واقعہ وہ فساد زدہ عوام کو بچانے کی کوشش کرتے تو جس طرح دوسرے لوگ مارے گیے وہ بھی انھیں کے ساتھ مارے جاتے۔

اس پہلو سے قطع نظر، اس واقعہ میں ایک اور سبق ہے ۔ وہ یہ کہ لیڈر لوگوں کے پاس کوئی ایسا نسخہ ہوتا ہے کہ عین اس وقت بھی لیڈروں میں سے کوئی لیڈر مارا نہ جائے جب کہ دوسرے لوگ دس ہزار سے زیادہ کی تعداد میں مار ڈالے گیے ہوں ۔ اب میں مسلمانوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ لیڈروں کی زندگی کے اس پہلو کا مطالعہ کریں۔ اگر انھوں نے اس راز کو جان لیا تو انھیں یہ شکایت

‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues

Printed page