Al-Risala · November 1987 · page 29

Poland to privatize State companies

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۹

اور مدعو کے لیے داعی کے دل میں صرف محبت اور خیر خواہی کا جذبہ ہونا چاہیے۔ دوسری قوموں کو اگر ہم محبت کا تحفہ دیتے تو اس کے جواب میں ہمیں بھی ہمارے موافق تحفہ ملتا۔ مگر جب ہم نے انھیں نفرت اور بیزاری کا تحفہ دیا تو اس کے جواب میں ان کی طرف سے بھی ہم کو وہی چیز ملی جو ہم نے انھیں دی تھی ۔

اخبار کی ایک سرخی یہ تھی کہ (اشتراکی) پولینڈ نے اپنی سرکاری کمپنیوں کو نجی ملکیت میں دینے کا فیصلہ کیا ہے :

Poland to privatize State companies

اسٹاک ہام کی ڈیٹ لائن کے ساتھ اس خبر میں پولینڈ کے ذمہ داروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پولینڈ بہت جلد اپنی کئی سرکاری کمپنیوں میں نجی افراد کو حصہ دار بننے کی پیش کش کرے گا۔ یہ ان اہم اصلاحی تبدیلیوں میں سے ہے جو پولینڈ میں وہاں کی اشتراکی معیشت کو نئی زندگی دینے کے لیے کی جارہی ہیں :

Poland will soon offer shares to private citizens in several State companies under major reforms to rejuvenate its socialist economy. موجودہ صدی کے آغاز میں اشتراکی حضرات نے نجی معیشت کے طریقہ کو ترقی میں رکاوٹ قرار دے کر رد کر دیا تھا۔ اب اسی صدی کے آخر میں انھیں عملاً یہ اعتراف کرنا پڑا کہ ان کو نجی معیشت کے طریقہ کو دوبارہ اپنانا پڑے گا ورنہ ان کی قومی اقتصادیات برباد ہو کر رہ جائے گی ۔

۸ اپریل کو ۱۱ بجے ہم اورنگ آباد پہنچے۔ یہاں جناب منہاج خاں صاحب کی رہائشگاہ پر دو گھنٹے قیام رہا۔ اس کے بعد جامنیر کے لیے روانگی ہوئی ۔ اورنگ آباد ریاست مہاراشٹر کا ایک شہر ہے۔ اس کو ملک امبر نے ۱۶۱۰ء میں آباد کیا تھا۔ بعد کو اورنگ زیب نے اس کا نام اورنگ آباد کر دیا۔ ۱۹۵۸ء میں یہاں مرہٹوارہ یونیورسٹی قائم ہوئی۔ اورنگ زیب کا مقبرہ بھی اورنگ آباد کے پاس ہے ۔ ایلورا کے مشہور غار بھی اسی کے پاس واقع ہیں ۔ اورنگ آباد کے مختصر قیام میں شہر کے متعدد افراد ملاقات کے لیے آگئے اور مختلف

‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues

Printed page