Al-Risala · November 1987 · page 31

Poland to privatize State companies

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۱

اس سفر میں مختلف مقامات پر چند پروگرام رہے۔ تا ہم یہ سفر اصلاً شری ایشور لال جین (معروف بابو جی) کی دعوت پر ہوا۔ انھوں نے اپنے دادا کے نام پر ایک ہفتہ کے لیے لکچروں کا انتظام کیا تھا۔ اس پروگرام کے آخری دن میری تقریر تھی۔ میری تقریر کا موضوع یہ تھا کہ نیشنل انٹیگریشن اور اس کے بارے میں اسلام کی رہنمائی۔

شری ایشور لال جین اس علاقہ کے نہایت ممتاز آدمی ہیں۔ مختصر قیام کے دوران ان سے ملک کے مسائل اور فرقہ وارانہ معاملات پر گفتگو ہوئی۔ معلوم ہوا کہ وہ ایک صاف ذہن اور انصاف پسند آدمی ہیں۔ ہر موضوع پر انھوں نے صاف گوئی کے ساتھ باتیں کیں ۔ میرا خیال ہے کہ اکثریتی فرقہ کے بیشتر افراد اسی قسم کا مزاج رکھتے ہیں ، مگر اقلیتی فرقہ ابھی تک اس دانش مندی کا ثبوت نہ دے سکا کہ وہ اس صورت حال سے فائدہ اٹھائے۔ تقریر کا پروگرام ایک کالج کے میدان میں تھا۔ وسیع میدان تقریبا پورا بھرا ہوا تھا۔ ہندو صاحبان بڑی تعداد میں شریک ہوئے ۔ بلکہ بعض لوگوں نے بتایا کہ پچھلے پروگراموں کے مقابلہ میں حاضرین کی تعداد اس دن زیادہ تھی۔ خود شری ایشور لال جین میری ڈیڑھ گھنٹہ کی پروگرام ۸ اپریل اورنگ آباد، ۱۱ بجے ملاقات اور اظہار خیال برمکان جناب منہاج خاں صاحب جامیئر، بعد عصر خطاب (مسجد اور نماز کی اہمیت) شاہی مسجد میں جامیئر، بعد مغرب خطاب عام (نیشنل انٹیگریشن) شری ایشور لال جین کے جلسہ میں جامیئر، بعد عشاء خطاب (قومی یک جہتی) بمقام نیو انگلتش اسکول ۹ اپریل جلگاؤں، بعد نماز فجر درس قرآن جامع مسجد جلگاؤں جلگاؤں، ۹ بجے صبح خطاب (سیکولر ہندوستان میں مسلمانوں کا کردار) ضلع پریشد ہال جلگاؤں خطاب (تعمیر ملت) اینگلو اردو جونیئر کالج جلگاؤں خطاب (توحید اور آخرت) جامع مسجد اورنگ آباد، ۱۰ بجے شام ملاقات اور اظہار خیال مولانا آزاد کالج

‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues

Printed page