Poland to privatize State companies
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۲
تقریر کو نہایت توجہ کے ساتھ سنتے رہے اور آخر میں غیر معمولی تاثر کا اظہار کیا۔ ان پروگراموں کی اطلاع مقامی اخبارات میں بھی شائع ہوئی تھی۔ اس کو دیکھ کر اطراف کے علاقوں کے کچھ لوگ بھی آگئے اور اجتماعات میں شریک رہے ۔
شری ایشور لال جین کی منعقدہ کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے میں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ نیشنل انٹیگریشن ہمارے ملک کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر کوئی بڑی ترقی حاصل نں کی جاسکتی۔ مگر میں دو چیزوں میں فرق کرتا ہوں ۔ ایک ہے خود نیشنل انٹیگریشن کا مقصد ۔ دوسرا ہے انٹیگریشن کو حاصل کرنے کا طریقہ ۔ میں نیشنل انٹیگریشن کے مقصد سے صد فی صد اتفاق کرتے ہوئے اس طریقہ کار سے اتفاق نہیں رکھتا جو آجکل نیشنل انٹیگریشن کے لیے پیش کیا جار ہا ہے۔
حال ہی میں میں نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کی کتاب پڑھی۔ اس کا نام ہے: INDIA: The Roots of Crisis (1986)
اس کتاب میں انھوں نے نیشنل انٹیگریشن کے مقصد کو حاصل کرنے کی تدبیر یہ بتائی ہے کہ ملک میں کلچرل انٹیگریشن پیدا کیا جائے ۔ یعنی تمام لوگ ایک ہی کلچر کو اختیار کر لیں۔ یہ کسی ایک شخص کی بات نہیں ہے ۔ ملک میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ نیشنل انٹیگریشن کا ذریعہ کلچرل انٹیگریشن ہے۔ مثلاً ملک کے مختلف فرقوں میں سول میرج کا طریقہ رائج کر دیا جائے ، ہر فرقہ کے لوگ دوسرے فرقہ کے لوگوں سے شادی کریں وغیرہ ۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کی چیزوں کا نیشنل انٹیگریشن سے کوئی تعلق نہیں۔ ہندوؤں اور سکھوں میں عام طور پر آپس کی شادی کا رواج تھا ۔ پھر ان کے درمیان لڑائی کیوں ہوئی ۔ پاکستانی اور بنگلہ دیشی دونوں ایک مذہب کے لوگ ہیں پھر وہ ایک دوسرے سے کیوں لڑ گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ نیشنل انٹیگریشن کا تعلق قومی مزاج سے ہے نہ کہ اس قسم کے رواجوں سے ۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ لوگوں کے اندر انسانیت کے احترام کا مزاج پیدا کیا جائے ۔ ایک آدمی دوسرے آدمی کے جان و مال اور عزت کو قابلِ احترام سمجھے ۔ یہ مزاج آجائے تو اپنے آپ نیشنل انٹیگریشن پیدا ہو جائے گا ۔ اور اگر یہ مزاج نہ آئے تو کسی اور تدبیر سے نیشنل انٹیگریشن کا مقصد
‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues