Al-Risala · November 1987 · page 33

Poland to privatize State companies

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۳

حاصل ہونے والا نہیں۔

یہ حل جو بتایا جاتا ہے وہ فطرت کے سراسر خلاف ہے۔ فطرت کا نظام تنوع کے اصول پر قائم ہے۔ مثلاً پودوں اور درختوں کو دیکھئے ۔ ہر ایک کا الگ انداز اور ہر ایک کی الگ شان ہے ۔ اگر کوئی شخص تمام پودوں اور درختوں کو کاٹ کر ایک سائز کا بنانے لگے تو یہ سراسر نادانی کی بات ہوگی ۔ دنیا کے باغ میں بڑے درخت بھی ہیں اور چھوٹے درخت بھی ۔ بڑا درخت اگر سایہ اور لکڑی دیتا ہے تو چھوٹے درختوں کی قطاریں ہریالی میں اضافہ کرتی ہیں ۔ پھول کے درخت اگر خوشبو دیتے ہیں تو اسی کے ساتھ گھاس بھی ایک اہم کام کرتی ہے ۔ اگر گھاس نہ ہو تو زمین پر ہری مخمل کا فرش کون بچھائے۔

یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسانوں کو ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔ یعنی ایک انسان کو کوئی خصوصیت دی ہے اور دوسرے انسان کو کوئی دوسری خصوصیت عطا کی ہے ۔ ایک کا ذوق ایک ڈھنگ کا ہے تو دوسرے کا ذوق دوسرے ڈھنگ کا ۔ یہ تنوع زندگی کی جان ہے۔ کیوں کہ اسی کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے کہ زندگی کی مختلف ضرورتیں پوری ہوں اور ہمہ گیر اور ہمہ جہتی ترقی ممکن ہوسکے۔ انسانوں کے اس تنوع کو ختم کرنا ایسا ہی ہے جیسے تمام انسانوں کے قد کو برابر کرنے کے لیے ان کے سروں کو تراشا جانے لگے ۔

اس قسم کا حل موجودہ دنیا میں ناممکن ہے۔ یہ خود انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ ہر آدمی بذات خود ایک کائنات ہے۔ ہر آدمی کی فزیکل بناوٹ الگ ہوتی ہے۔ ہر آدمی کے انگوٹھے کا نشان الگ ہوتا ہے ۔ حتیٰ کہ اب یہ ثابت ہوا ہے کہ ہر انسان کے جسم کا ہر پارٹیکل دوسرے انسان کے جسم کے پارٹیکل سے جدا ہوتا ہے ۔ ایسی حالت میں آپ تمام لوگوں کو ایک ہی رنگ میں کیسے رنگ سکتے ہیں ۔ یہ تو خود نظام فطرت کے خلاف ہے ۔ جب خالق نے انسان کے اندر کثرت رکھی ہے تو آپ کثرت کو مان کر اپنا مسئلہ حل کر سکتے ہیں نہ کہ اس کو رد کر کے۔

اس بنا پر میں کہتا ہوں کہ نیشنل انٹیگریشن کا راز کلچرل انٹیگریشن میں نہیں ہے بلکہ کلچرل ایڈجسٹمنٹ میں ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کا احترام کریں۔ ایک دوسرے کے معاملے میں روادار بنیں، اختلاف کے باوجود متحد ہونا سیکھیں۔ اس تمہید کے بعد میں نے تفصیل کے ساتھ

‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues

Printed page