Poland to privatize State companies
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۲
تاریخ اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بتایا کہ ہندوستان کے حالات میں نیشنل انٹیگریشن کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے ۔
اس سفر میں بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ چند ملاقاتوں کا حال یہاں لکھا جاتا ہے ۔
الرسالہ کے ایک قاری نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ الرسالہ کے ہر صفحہ پر کوئی نئی بات ہوتی ہے۔ الرسالہ کی اس خصوصیت نے اس کو نہایت اثر انگیز بنا دیا ہے۔ جو شخص اس کو پڑھتا ہے وہ اس سے اثر لیے بغیر نہیں رہتا۔ ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ نے میری زندگی بدل دی۔ پہلے میں قرآن کو پڑھتا تھا مگر اس کے معانی پر غور کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتا تھا۔ مگر اب میں قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ عبادت میں ایک نئی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ کائنات کو دیکھتا ہوں تو اس میں مجھے خالق کا جلوہ نظر آتا ہے۔ حالاں کہ پہلے ایسا نہ تھا۔ کئی لوگوں کے بارے میں معلوم ہوا کہ انھوں نے الرسالہ کے زیر اثر اپنے اختلافات ختم کرلیے اور جوق داروں کو ان کے جوق واپس کر دیے ۔
کچھ لوگوں نے " عملی پروگرام " کی بابت سوال کیا۔ میں نے کہا کہ ہم دوسرے لوگوں کی طرح معروف قسم کا عملی پروگرام شروع نہیں کرسکتے۔ ہر عملی پروگرام کے لیے ضروری ہے کہ جن لوگوں کے درمیان اس کو اٹھایا گیا ہے۔ ان کو ذہنی طور پر اس کے لیے تیار کر لیا گیا ہو۔ دوسرے لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ " اسلام خطرہ میں " اور " مسلمان خطرہ میں " کے عنوان کے تحت اقدامات کرتے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات کے لیے کوئی ذہنی زمین بنانے کی ضرورت نہیں۔ وہ تو بنی بنائی موجود ہے۔ موجودہ مسلمان مختلف اسباب کے تحت جھنجھلاہٹ اور احساس مظلومی کی نفسیات میں مبتلا ہیں۔ اب کوئی شخص جب خطرہ کی گھنٹی بجا تاہے تو یہ بات عین انکے مزاج کے مطابق ہوتی ہے۔ اس قسم کے نعروں سے ان کی منفی نفسیات کو غذا ملتی ہے۔ وہ حق در حقوق اس کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ دل کھول کر اس کے لیے چندے دیتے ہیں۔ لیڈروں کی پرجوش تقریروں کو سننے کے لیے فوراً ان کی بھیڑ جمع ہو جاتی ہے۔
مگر ہم کو جو کام کرنا ہے وہ خالص تعمیری کام ہے۔ لوگ خارجی خطروں میں جی رہے ہیں،
‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues