Poland to privatize State companies
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۶
میں تمام تر تعمیری باتیں ہوتی ہیں ۔ آپ ساری تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی نہیں بتا سکتے کہ ایک شخص تخریب کاروں کا ایجنٹ ہو، اس کے باوجود وہ اپنی قوم کو تعمیری بنیاد پر اٹھانے کی کوشش کرے۔
ایک صاحب نے کہا کہ میں برابر الرسالہ پڑھتا ہوں۔ آپ کی تمام کتابیں پڑھ چکا ہوں ۔ مجھے آپ کی باتوں سے صد فی صد اتفاق ہے۔ مگر بعض لوگ آپ کے بارے میں طرح طرح کی قابل اعتراض باتیں بیان کرتے ہیں جن سے ذہن خلجان میں پڑ جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہاں آپ نے میری کئی تقریریں سنی ہیں۔ کیا آپ نے ان میں کوئی خلاف بات پائی۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ ہر مہینہ میرے دو رسالے (اردو، انگریزی) نکلتے ہیں، کیا ان میں آپ کو کوئی خلاف بات ملی۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ میری تقریبا پچاس کتابیں چھپ چکی ہیں، کیا ان میں آپ نے کوئی خلاف بات پائی۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ بس تو پھر آپ اس قسم کے لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کر دیجئے ۔ جو شخص سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر آپ سے لغو باتیں کہتا ہے اس سے کہیے کہ تم جھوٹے ہو۔ اگر تم کو اعتراض کرنا ہے تو مطبوعہ باتوں کی بنیاد پر اعتراض کرو۔ سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر کیا ہوا تمہارا اعتراض سراسر نا قابل لحاظ ہے۔ وہ خود تمہاری شرپسندی کو ثابت کرتا ہے نہ کہ کسی دوسرے شخص کے غلط کار ہونے کو۔
ایک ایڈیٹر صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ وہ ایک خاص موضوع پر اپنے رسالہ کا نمبر نکالنے والے تھے اور چاہتے تھے کہ میں اس موضوع پر ایک مضمون لکھ کر انھیں دوں۔ میں نے کہا کہ یہ میرے لیے مشکل ہے ، کیوں کہ فرمائشی مضمون لکھنا مجھ کو نہیں آتا۔ انھوں نے کہا کہ آپ تو اتنے زیادہ مضامین لکھتے ہیں کہ الرسالہ میں صرف آپ کے مضامین ہوتے ہیں، اور اسی طرح وہ دس سال سے نکل رہا ہے۔ پھر ایک مضمون لکھنا آپ کے لیے کیا مشکل ہے۔ میں نے کہا کہ میرے لکھنے کا طریقہ اس سے مختلف ہے جو دوسروں کا ہوتا ہے۔ دوسرے لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ حسب ضرورت ایک موضوع مقرر کیا اور اس پر لکھنا شروع کر دیا۔ میرا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ میرا مضمون میرے مطالعہ کی ضمنی پیداوار (By-product) ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues